نظریاتی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جائے‘ نئی نسلوں کو معلوم ہونا چاہئے بانیان کیسا پاکستان چاہتے تھے : ڈاکٹر مجید نظامی

نظریاتی تعلیم کو نصاب کا حصہ بنایا جائے‘ نئی نسلوں کو معلوم ہونا چاہئے بانیان کیسا پاکستان چاہتے تھے : ڈاکٹر مجید نظامی

لاہور (خصوصی رپورٹر) رانا عبدالرحیم نے ایوبی آمریت کے مقابلے میں صدارتی الیکشن کے دوران مادر ملتؒ کا ساتھ دیا، آپ نے ایسی زندگی گزاری کہ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔ جب صوبائی وزیر تعلیم، وزیر اعلیٰ اور گورنر پنجاب تعلیم کے دلدادہ ہیں تو یہاں 100 فیصد تعلیم ہونی چاہئے۔ نظریاتی تعلیم کو بھی نصاب کا حصہ بنانا چاہئے تاکہ نئی نسلوں کو معلوم ہو بانیانِ پاکستان کیسا پاکستان چاہتے تھے۔ ہم اپنی شہ رگ یعنی کشمیر کو بھارتی قبضے سے چھڑا کر دم لیں گے۔ ہمارے حکمران لالہ جی سے ملنے کیلئے بیتاب ہیں، خدارا ان باتوں کو فراموش کر دیں اور پاکستان کو قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے نظریات کے عین مطابق ایک اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنائیںاور اسے ہندو کا باجگزار نہ بنائیں۔ ان خیالات کا اظہار تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن، ممتاز صحافی اور چیئرمین نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ ڈاکٹر مجید نظامی نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان، شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں تحریک پاکستان کے کارکن اور ممتاز مسلم لیگی رہنما رانا عبدالرحیم مرحوم کی 6ویں برسی کے موقع پر منعقدہ خصوصی نشست کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ اس نشست کا اہتمام نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ اس موقع پر نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد، صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد خاں، ممتاز سیاسی رہنما چودھری نعیم حسین چٹھہ، مسلم لیگ (ن) لائرز ونگ کے رہنما خواجہ محمود احمد ایڈووکیٹ، جسٹس (ر) شیخ خضر حیات، وکیل رہنما منصورالرحمن آفریدی، شعیب بن عزیز، جسٹس (ر) منیر احمد مغل، عزیز ظفر آزاد، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان، مسلم لیگ (ن) لاہور کے جنرل سیکرٹری خواجہ عمران نذیر، سابق ممبر صوبائی اسمبلی رانا محمد اقبال خاں، رانا اسداللہ، محمد یٰسین وٹو، مسلم لیگی کارکنوں سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کثیر تعداد میں موجود تھے۔ پروگرام کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک، نعت رسول مقبول اور قومی ترانے سے ہوا۔ حافظ امجد علی نے تلاوت کلام پاک کی سعادت حاصل کی جبکہ معروف نعت خواں الحاج اخترحسین قریشی نے بارگاہ رسالت مآب میں ہدیہ¿ عقیدت پیش کیا۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے انجام دئیے۔ ڈاکٹر مجید نظامی نے کہا یہ بڑی خوشی کی بات ہے رانا عبدالرحیم مرحوم کی یاد میں منعقدہ یہ نشست ہمارے کامیاب ترین پروگراموں میں سے ایک ہے۔ رانا مشہود احمد اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں وہ رانا عبدالرحیم کے فرزند ہیں جبکہ مرحوم بھی خوش قسمت انسان تھے کہ وہ رانا مشہود احمد کے والد محترم تھے۔ انہوں نے کہا رانا عبدالرحیم نے ایوبی آمریت کے مقابلے میں صدارتی الیکشن کے دوران مادر ملتؒ کا ساتھ دیا۔ مجھے فخرہے میں نے لارنس روڈ لاہور پر ”المنظر ہاﺅس“ میں مادر ملتؒ سے دوچار ملاقاتیں کر کے انہیں قائل کیا اِس وقت کوئی مرد ایوب خان کے مقابلے میں نہیں آرہا، آپ ازراہ کرم اس کے مقابلے میں آئیںکیونکہ ایوب خان کو بلامقابلہ منتخب نہیں ہونا چاہئے۔ ہمیں معلوم ہے وہ جھرلو سے الیکشن جیت جائے گا لیکن آپ انشاءاللہ ہارنے کے باوجود بھی جیتی ہوں گی۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ انہوں نے میری بات مان لی اور ایوب خان کے مقابلے میں الیکشن لڑا۔ بی ڈی سسٹم کے تحت ہونیوالے ان انتخابات میں ایوب خان نے جھرلو کے ذریعے کامیابی حاصل کی۔ یہ بات میرے لئے باعث عزت ہے الیکشن کے بعد مادرملتؒنے مجھے ”قصر فاطمہؒ“ کراچی میں ناشتے پر بلایا اور فرمایا میں ہر گز ہر گز اس شکست سے بددل نہیں ہوں، میں نے ایک ایسا بیج بو دیا ہے جو ایک دن اس ملک میں جمہوریت کو تناور درخت بنادے گا۔ ان کی یہ بات درست ثابت ہورہی ہے اور آج دوچار آمر بھگتانے کے بعد بالآخر ہمیں جمہوریت مل گئی ہے۔ آج کے بعد کسی آمر کو یہ جرات نہیں ہو گی کہ وہ ملک پر قبضہ کرے۔ ایک تقریب کے دوران میں نے موجودہ چیف آف آرمی سٹاف سے پوچھا حضور والا! حالات سازگار ہونے کے باوجودآپ نے ابھی تک ”میرے عزیز ہم وطنو“ نہیں کہا، آپ ایسا کرنے کا کب تک ارادہ رکھتے ہیں ۔اس سوال کے جواب میں انہوں نے مجھے کہا "This is not my cup of tea" اس سے آپ اندازہ لگا لیں وہ کتنے جمہوریت کے حامی ہیں۔ ڈاکٹر مجید نظامی نے کہا راناعبدالرحیم مرحوم جیسے لوگ بہت کم پیدا ہوتے ہیں اور مائیں ایسے بچوں کو خال خال ہی جنم دیتی ہیں۔ انہوں نے ایسی زندگی گزاری کہ ہمیں ان کے نقش قدم پر چلنا چاہئے۔ انہوں نے کہا دورانِ تقریب یہ بات کہی گئی رانا عبدالرحیم نے سوٹ اتارکر اچکن پہن لی تھی لیکن میں آپ کے سامنے سوٹ پہنے اس لیے کھڑا ہوںکہ حضرت قائداعظمؒ جو میرے لیڈر تھے، ہیں اور لیڈر رہیں گے‘ وہ بھی سوٹ ہی پہنتے تھے۔ انہوں نے بھی کبھی کبھی اچکن ضرور پہنی لیکن ان کا عمومی لباس سوٹ ہی تھا۔ میں نے لندن میں سات سال گزارے اور وہاں میرے لئے اچکن پہن کر پھرنا ممکن نہیں تھا لہٰذا میں سوٹ پہننے کا عادی ہو گیا۔ قائد اعظمؒ اور اکثر مسلم لیگی اکابرین بھی سوٹ ہی پہنا کرتے تھے تاہم اس میں بھی کوئی شک نہیں ہمیں اپنا لباس پہننا چاہئے۔ انہوں نے رانا مشہودکو مخاطب کرتے ہوئے کہا اللہ تعالیٰ نے آپ کو اہم ترین وزارت یعنی تعلیم کی وزارت دی ہے۔ اور آپ تعلیم یافتہ نہ ہوتے تو ہم اس ہال میں نظر نہ آتے بالخصوص مائیک پر بات نہ کر رہے ہوتے۔ میری آپ سے درخواست ہے قوم کو تعلیم یافتہ بنائیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف عملی انسان ہیں اور وہ خود بھی پنجاب کو تعلیم یافتہ بنانا چاہتے ہیں لہٰذا ان کا ردعمل بھی مثبت ہو گا۔ دو روز قبل یہاں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور بھی تشریف لائے تھے اور ان کی گفتگو سے معلوم ہوا وہ بھی تعلیم کے بہت دلدادہ ہیں۔ ایسی صورتحال میں کہ آپ وزیر تعلیم، میاں شہباز شریف وزیر اعلیٰ پنجاب اور گورنر پنجاب تعلیم کے دلدادہ ہیں تو کوئی وجہ نہیں یہاں 100 فیصد تعلیم عام نہ ہو۔ نظریاتی تعلیم کو بھی نصاب کا حصہ بنانا چاہئے تاکہ نئی نسل کو معلوم ہو بانیانِ پاکستان کیسا پاکستان چاہتے تھے۔ ہم پاکستان کو قائداعظمؒ اورعلامہ محمد اقبالؒ کے نظریات وتصورات کے مطابق ایک جدید اسلامی فلاحی جمہوری ملک دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا خواتین کیلئے مادر ملتؒ رول ماڈل ہونی چاہئیں۔آپ ازراہ کرم مادر ملتؒ کو اپنا رول ماڈل بنائیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر مجید نظامی نے کہا رانا عبدالرحیم کی تحریک پاکستان میں خدمات کا ریکارڈ ہمارے پاس موجود ہے اور اس کے اعتراف میں انہیں گولڈ میڈل دیا جائے گا۔ یہ صرف اس وجہ سے ہے انہوں نے پہلے دن سے ہی قائداعظمؒ کی مسلم لیگ کیلئے کام کیا اور ساری زندگی اسی کیلئے وقف کر دی۔ انہوں نے کہا ”آج نوائے وقت“ میں نواب آف جونا گڑھ کے حوالے سے یہ خبر شائع ہوئی ہے جوناگڑھ کو پاکستان میں ضم کرنے کیلئے بھارت سے مذاکرات کرنے چاہئیں۔ قیام پاکستان کے وقت جوناگڑھ کے علاوہ حیدرآباد اور ماناوادر کی ریاستوں نے بھی پاکستان کے ساتھ الحاق کیا تھا اور یہ قانونی طور پر پاکستان کا حصہ ہیں جن پر بھارت نے غاصبانہ قبضہ کیا ہوا ہے۔ ہمیں نہ صرف کشمیر بلکہ ان ریاستوں کو بھی بھارت سے نجات دلانی ہے۔ انہوں نے کہا وزیراعظم میاں نوازشریف ترکی کے دورے پر ہیں اور انہوں نے وہاں فرمایا ہے کہ میں نے الیکشن میں اس بات پر حصہ لیا اورکامیابی حاصل کی کہ ہم بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کریں گے۔ میں ان کی بات سے ہر گز اتفاق نہیں کرتا۔ ہم نے کھل کر ان کی سپورٹ کی تھی لیکن ہم نے کبھی نہیں لکھا بھارت کے ساتھ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر اچھے تعلقات قائم ہونے چاہئیں۔ ہم اپنی شہ رگ یعنی کشمیر کو بھارتی قبضے سے چھڑا کر دم لیں گے۔ میری یہاں موجود مسلم لیگی کارکنوں سے گزارش ہے آپ میاں نوازشریف کو یہ بات باورکرائیں وہ مردِ مسلم لیگ بنیں اور ازراہ کرم ٹھیک بات کریں کیونکہ بھارت کبھی بھی ہمارا دوست نہیں ہو سکتا۔ جب تک کشمیر جسے قائداعظمؒ نے ہماری شہ رگ قرار دیا تھا، وہ ہمیں واپس نہیں کرتا وہ پاکستان کا دشمن ہی رہے گا۔ کوئی انسان مرد کہلانے کا حقدار نہیں جب تک اس کی شہ رگ دشمن کے قبضے میںہو چہ جائیکہ ایک ملک کی شہ رگ دشمن کے قبضے میں ہو۔ ہمارے حکمران لالہ جی سے ملنے کیلئے بیتاب ہیں۔ خدارا ان باتوں کو فراموش کر دیں اور پاکستان کو قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے نظریات کے عین مطابق ایک اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنائیں اور اسے ہندو کا باجگزار نہ بنائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمارے حکمرانوں کو عقل سلیم عطا فرمائے۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا تحریک پاکستان کی یادوں کو تازہ کرتی یہ تقریبات ہمارے ولولوں کو بھی نئی تازگی بخشتی ہیں۔ رانا عبدالرحیم نے تحریک نظام مصطفی میں بھی کام کیاجبکہ تعلیمی میدان میں بھی ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ مرحوم کے صاحبزادے اور صوبائی وزیر تعلیم رانا مشہود احمد نے کہا دوقومی نظریہ پاکستان کی بنیاد ہے، ڈاکٹر مجید نظامی دوقومی نظریہ کی ترویج واشاعت کیلئے جو کام کر رہے ہیں وہ قابل ستائش اورلائق تحسین ہے۔ ہمارے والد صاحب نے ڈاکٹر مجید نظامی کا پیغام کم عمری میں ہی ہمیں سکھا دیا تھا۔ بچپن میں ہمارے لئے ”نوائے وقت“ کا اداریہ پڑھنا ضروری تھا اور والد صاحب ہم سے روزانہ پوچھتے تھے آج اداریہ میں کیا لکھا ہے۔ ڈاکٹر مجید نظامی قوم کی آوازکو حکمرانوں تک پہنچا رہے ہیں۔ میرے والد کامیاب ترین وکیل تھے اور انہوں نے ساری زندگی پارٹی کی خدمت کی، میں نے زندگی میں کبھی اپنے والد کی تعلیمات کو فراموش نہیں کیا۔ بھارت اورامریکہ سے اچھے تعلقات ضرورقائم کئے جائیں لیکن یہ تعلقات برابری کی سطح پر قائم ہونے چاہئیں۔ ہمیں قوم کی تقدیر سنوارنے کیلئے تعلیم پر خاص توجہ دینا ہو گی۔ ہماری حکومت نے بھی مسائل کے حل کیلئے عملی اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ قوم دوسال صبرکرے انشاءاللہ مسائل جلد حل ہو جائیں گے۔ منصورالرحمن آفریدی ایڈووکیٹ نے کہا رانا عبدالرحیم روشنی کا ایسا مینار تھے جو کوئی بھی ان کے پاس جاتا وہ بھی روشن ہو جاتا تھا۔ جسٹس (ر) شیخ خضر حیات نے کہا جو قوم اپنے محسنوں اور پُرخلوص خیر خواہوں کو بھول جاتی ہیں وہ زیادہ دیر تک صفحہ¿ ہستی پر نہیں رہ سکتیں۔ چودھری نعیم حسین چٹھہ نے کہا رانا عبدالرحیم نے اوائل عمری میں ہی مسلم لیگ اور تحریک پاکستان کیلئے کام کیا۔ عزیز ظفر آزاد نے کہا رانا عبدالرحیم پرانے مسلم لیگی تھے اور آپ نے 1977ءکی تحریک میں بھرپور حصہ لیا۔ خواجہ محمود احمد ایڈووکیٹ نے کہا رانا عبدالرحیم اول و آخر مسلم لیگی تھے اورآپ نے ہمیشہ پُر خلوص کارکنوں کی حوصلہ افزائی کی۔ آپ نے قومی لباس کو فروغ دیا۔ قبل ازیں شاہد رشید نے مہمانوں کی آمد پر خیرمقدم کرتے ہوئے انہیں خوش آمدید کہا۔ انہوں نے کہا نظریہ¿ پاکستان ٹرسٹ ڈاکٹر مجید نظامی کی قیادت میں نئی نسل کو نظریہ¿ پاکستان، قیام پاکستان کے حقیقی اسباب و مقاصد اور مشاہیر تحریک آزادی کے افکار و خیالات سے آگاہ کر رہا ہے۔ نشست کے آخر میں جسٹس (ر) منیر احمد مغل نے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب اور ملکی تعمیر و ترقی کیلئے خصوصی دعاکی۔