لاہور میں یکم جنوری سے 31اگست تک زیادتی کے 113 مقدمات درج ہوئے: انسانی حقوق کمیشن

لاہور (ثناءنیوز+نوائے وقت رپورٹ) کمشن برائے انسانی حقوق نے پاکستان میں خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ خواتین کے خلاف مظالم کی نشاندہی کرنے والے انسانی حقوق کے مدافعین خصوصی طور پر خطرے کی زد میں ہیں۔ منگل کو جاری ہونے والے ایک بیان میں کمیشن نے کہا کہ پنجاب میں زیادتی کے متعدد واقعات ہوئے جس میں ایک پانچ سالہ بچی سے جنسی زیادتی کا وقوعہ بھی شامل ہے۔ صرف لاہور میں پولیس نے رواں برس یکم جنوری سے 31اگست تک جنسی زیادتیکے 113مقدمات درج کئے۔ اجتماعی زیادتی کے 32مقدمات درج کئے گئے۔ کوہاٹ، خیبر پی کے میں تین خواتین کو ان کے خاندان کے اراکین نے گولیاں مار کر ہلاک کردیا۔ اس سال جولائی کے اختتام تک کم از کم 44خواتین پر تیزاب پھینکا گیا جن میں سے سات زخموں کی تاب نہ لاکر ہلاک ہوگئیں۔451خواتین کو عزت کے نام پر قتل کیا گیا۔ متاثرین کی مدد کرنے والوں یا مظالم کو اجاگر کرنے والوں کو لاحق خطرات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے۔ ایچ آر سی پی کے ایک سٹاف ممبر کو دو ہفتے قبل صرف اس وجہ سے روپوش ہونا پڑا کہ اس نے ایک واقعہ اجاگر کیا تھا جس میں ایک آدمی نے اپنی رشتہ دار خاتون کو تشدد کا نشانہ بنایا تھا جس پر ملزمان نے اسے قتل کرنے کی دھکمیاں دیں۔ خواتین کے خلاف تشدد اور مجرموں کو سزا سے حاصل استثنیٰ کے متعدد عوامل ہیں۔ مجرموں کو سزا سے تحفظ دینے والے حالات نے بھی تشدد کے فروغ میں براہ راست کردار ادا کیا ہے۔ ایچ آر سی پی نے حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ خواتین کے خلاف تشدد اور مجرموں کوسزا سے استثنیٰ کے خاتمے کو اپنی ترجیحات میں شامل کریں تاکہ آبادی کے نصف حصے کو انصاف کی فراہمی ممکن ہوسکے۔ کمیشن یہ بھی امید کرتا ہے کہ کم ازکم انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اجاگر کرنے والے صحافیوں اور انسانی حقوق کے محافظین کو کام کار کا محفوظ ماحول فراہم کرنے کے لیے چند بامعنی اقدامات اٹھائے جائیں گے۔