حسینہ واجد نے شکست کے خوف سے آئین اور اداروں کو مذاق بنا دیا: منورحسن

حسینہ واجد نے شکست کے خوف سے آئین اور اداروں کو مذاق بنا دیا: منورحسن

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی منور حسن نے بنگلہ دیش جماعت اسلامی کے رہنما عبدالقادر ملا کو عدالت کی طرف سے حکومتی دباﺅ پر عمر قید کی سزا کو سزائے موت میں بدلنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بنگلہ دیش میں آئین اور آئینی اداروں کو مذاق بنا دیا گیا۔ حسینہ واجد حکومت نے اپنے مخالفین اور پاکستان کے حامی سیاستدانوں کو راستے سے ہٹانے اور آئندہ انتخابات میں یقینی شکست سے بچنے کے لیے عدالتوں کو عدل و انصاف سے ہٹا کر ظلم و جبر پر مجبور کردیا۔ انہوں نے کہاکہ جماعت اسلامی کے سابق امیر 91سالہ پروفیسر غلام اعظم کو 90 سال قید کی سزا دی گئی مگر حسینہ واجد نے ان کی سزا کو بھی سزائے موت میں بدلنے کی اپیل کر رکھی ہے۔ منور حسن نے کہاکہ حکومت پاکستان کی طرف سے اسے بنگلہ دیش کا اندرونی معاملہ قرار دینے سے حسینہ واجد کی حکومت کو ریاستی ظلم و ستم جاری رکھنے کا لائسنس مل گیا ہے۔ انہوں نے عالمی برادری کی طرف سے بنگلہ دیش میں انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف مجرمانہ خاموشی کی بھی مذمت کی اور کہاکہ عالمی برادری کا اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ متعصبانہ رویہ اور دوہرا معیار دنیا میں عدل و انصاف اور آئین کی بالادستی کی راہ میں بڑی رکاوٹ ہے۔ انہوں نے کہاکہ دنیا میں اس وقت تک امن قائم نہیں ہو سکتا جب تک عالمی قوتیں خود ظلم سے باز نہیں آتیں۔ انہوں نے حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا کہ وہ پاکستان اور بنگلہ دیش کے درمیان طے پانے والے بھٹو مجیب معاہدے کو عالمی برادری کے سامنے لائے اور اقوام متحدہ سے اپیل کرے کہ وہ بنگلہ دیش کو معاہدے کی پاسداری کا پابند بنائے اور جماعت اسلامی کے رہنماﺅں کے خلاف ظلم و جبر پر مبنی سزائیں واپس لی جائیں۔ دریں اثنا منور حسن نے اخوان المسلمون کے رہنماﺅں کے اثاثے منجمد کرنے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیاہے۔