جمعیت کے طالب علم نے دہشت گرد کو پناہ دی، مجاہد کامران: ہمارا کوئی تعلق نہیں، یونیورسٹی ناظم

لاہور(نوائے وقت رپورٹ+آن لائن) وائس چانسلر پنجاب یونیورسٹی ڈاکٹر مجاہد کامران نے کہا ہے کہ ہاسٹل میں دہشت گرد کو پناہ دینے والے طالب علم کا تعلق طلبہ تنظیم سے تھا جو غیر قانونی رہائش پذیر تھا اس کے کمرے سے ناظمین کے ٹیلیفون نمبرز کی لسٹ، جہادی لٹریچر، کتابیں اور امانت کا ریکارڈ برآمد ہوا۔ اگر قانون نافذ کرنے والے ادارے مدد کریں تو یونیورسٹی کو غیر قانونی عناصر سے پاک کرنے میں کامیاب ہو جائینگے۔ گزشتہ روز وائس چانسلر آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ خفیہ ادارے جس دہشت گرد کو پکڑ کر لے گئے وہ تین دن ہاسٹل کے کمرہ نمبر 237 میں مقیم رہا اس کو پناہ دینے والے طالب علم کا تعلق اسلامی جمعیت طلبہ سے تھا۔ تین سالوں میں یونیورسٹی میں شرپسند اور مسلح عناصر کے خلاف 75 ایف آئی آر درج کروائیں لیکن ان کو کوئی پکڑنے والا نہیں۔ اگر کوئی پکڑا جاتا تو اسکو چھوڑ دیا جاتا ہے آخر ان کی پشت پر چھڑوانے والے کون ہیں؟ انہوں نے کہا کہ ہمیں معلوم ہوا ہے کہ خالد بن ولید ہال میں بھی غیر قانونی مسلح عناصر رہائش پذیر ہیں۔ یہ مسلح عناصر ملازمین سے مارپیٹ اور تشدد بھی کرتے ہیں۔ ان سب کا تعلق یا سرپرستی طلبہ تنظیم کی ہے۔ انہوں نے ایک سوال پر کہا کہ غیر قانونی عناصر نے اساتذہ کے ساتھ ہٹ دھرمی یا تشدد کا مظاہرہ کیا تو پھر پولیس کے ذریعے بھرپور کارروائی کرینگے۔ انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں مسلح اور غیر قانونی عناصر کے خلاف کارروائی کیلئے کابینہ کی ذیلی کمیٹی کو خط بھی لکھا۔ جس پر وزیر قانون نے پولیس کو یونیورسٹی انتظامیہ کے ساتھ تعاون کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تاہم اگر پولیس اور قانونی ادارے مکمل تعاون کرتے ہیں تو بہت جلد یونیورسٹی کو مسلح و غیر قانونی عناصر سے پاک کرنے میں کامیاب ہو جائینگے۔ دریں اثناءپنجاب یونیورسٹی اکیڈمک سٹاف ایسوسی ایشن کے سیکرٹری پروفیسر جاوید سمیع نے بتایا کہ یونیورسٹی ہاسٹل سے گزشتہ روز پکڑے جانیوالے مبینہ دہشت گرد کا کمرہ جمعیت کے ناظم احمد سجاد کے نام پر الاٹ تھا احمد سجاد پروفیسروں کو مارنے اور ڈرانے کے واقعات میں بھی ملوث رہا ہے اسکے خلاف 2 مقدمات بھی درج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کمرے سے 7 موبائل فون، 6 سم کارڈ، نیٹو کی جیکٹیں اور جہادی مواد برآمد ہوا۔ ادھر اسلامی جمعیت طلبہ پنجاب یونیورسٹی کے ناظم عبدالمقیت نے ناظم جنوبی رائے حقنواز اور ناظم علاقہ بہرام سعید کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا اسلامی جمعیت طلبہ نے کسی خفیہ تحریک کے ممبر یا مشکوک شخص کو پناہ نہیں دی۔ یونیورسٹی سے پکڑے گئے افراد اور کمرہ جس کے نام پر الاٹ تھا اس شخص کا جمعیت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں۔ یونیورسٹی انتظامیہ اپنی نااہلی چھپانے کیلئے ہر الزام جمعیت پر لگا دیتی ہے یونیورسٹی انتظامیہ اور ہاسٹل وارڈنز غیر الاٹی افراد کو خود پناہ دیتے ہیں اور نام جمعیت کا استعمال کرتے ہیں۔