گستاخانہ خاکوں کیخلاف مظاہرے جاریق وکلاءکا عدالتی بائیکاٹ‘ کل ہڑتال کا اعلان

گستاخانہ خاکوں کیخلاف مظاہرے جاریق وکلاءکا عدالتی بائیکاٹ‘ کل ہڑتال کا اعلان

لاہور+ اسلام آباد (سپیشل رپورٹر+ نامہ نگاران+ ایجنسیاں) گستاخانہ خاکوں کیخلاف گزشتہ روز بھی کئی شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری رہے اور ریلیاں نکالی گئیں۔ فیصل آباد میں نمائندہ خصوصی کے مطابق جمعیت علماءپاکستان کے زیراہتمام جامع مسجد محمدی رضوی یٰسین آباد سے مٹھائی والا چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ علاوہ ازیں سنی علما بورڈ کے زیراہتمام بھی ریلی نکالی گئی۔ رہنماﺅں نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی ممالک متحد ہو کر گستاخانہ خاکوں کا نوٹس لیں۔ پاکپتن سے نامہ نگار کے مطابق مسیحی برادری نے ٹی ایم اے پاکپتن سے ریلی نکالی۔ ریلی کے شرکاءنے پلے کارڈ اور بینرز اٹھا رکھے تھے۔ جھنگ سے نامہ نگار کے مطابق انجمن طلباءاسلام ضلع کے زیراہتمام پریس کلب جھنگ کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ سیالکوٹ سے نامہ نگار کے مطابق جماعت اہلسنت کے زیراہتمام کوٹلی بہرام میں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ گجرات سے نامہ نگار کے مطابق اسلامک سنٹرگجرات جامع مسجد قرطبہ کے باہر جماعت اسلامی ضلع گجرات کے زیراہتمام احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ بہاولپور سے نامہ نگار کے مطابق انجمن طلباءاسلام کے زیراہتمام پریس کلب بہاولپور کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ علاوہ ازیں تحریک حرمت رسول اور جماعةالدعوة کے زیراہتمام گزشتہ روز بھی احتجاج کا سلسلہ جاری رہا اور لاہور، قصور، گوجرانوالہ، فیصل آباد، حافظ آباد، خانیوال، راولپنڈی، گجرات اور دیگر شہروں میں کانفرنسوں اور جلسوں کا انعقاد کیا گیا جن میں لوگوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ لاہور میں جماعة الدعوة کے زیراہتمام جامع مسجد عمر فاروق کوٹ لکھپت میں ہونے والی حرمت رسول کانفرنس ہوئی۔ شرکاءنے گستاخانہ خاکوں کے خلاف شدید نعرے بازی کی۔ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سیف اللہ خالد، مولانا محمد یوسف ربانی، خالد سیف الاسلام و دیگر نے خطاب کیا۔ تحریک حرمت رسول کی جانب سے جامع مسجد توحید رحمان پورہ اور امامیہ کالونی شاہدرہ میں کانفرنسوں کا انعقاد کیا گیا جس میں مولانا طاہر طیب بھٹوی، مولانا یوسف ربانی و دیگر نے خطاب کیا اور گستاخانہ خاکوں کی مذمت کی۔ گوجرانوالہ سے نمائندہ خصوصی کے مطابق تحریک صراطِ مستقیم پاکستان کی کال پر گستاخانہ خاکوں کے خلاف ریلی نکالی گئی جس سے سربراہ تحریک صراط مستقیم ڈاکٹر محمد اشرف آصف جلالی نے خطاب کیا اور گستاخانہ خاکوں کی شدید مذمت کی۔ شیخوپورہ سے نامہ نگار خصوصی کے مطابق پریس کلب شیخوپورہ کے زیراہتمام صدر پریس کلب شہباز احمد خان، جنرل سیکرٹری سلطان حمید راہی، عبدالحمید بھٹی اور چودھری شہزاد ورک کی قیادت میں ریلی نکالی گئی جو پریس کلب سے شروع ہوکر خادم حسین روڈ پر اختتام پذیر ہوئی۔ مقررین نے مطالبہ کیا کہ او آئی سی کا فوری اجلاس بلواکر فرانس حکومت کی مذمت کی جائے۔ ریلی میں شیخ امتیاز، مبشر بٹ، شیخ ندیم، ملک محمد بوٹا، عقیل بھٹی، اعظم ولانہ اور دیگر نے شرکت کی۔ شاہ کوٹ سے نامہ نگار کے مطابق جامع رضوےہ منظر الاسلام، جامع مسجد نوری اور سلطانی ےوتھ اور پی ٹی آئی کے زےراہتمام رےلی نکالی گئی جو شہر کے مختلف راستوں سے ہوتی ہوئی بلدےہ چوک مےں اختتام پذےر ہوئی۔ ننکانہ صاحب سے نامہ نگار کے مطابق گورودوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب میں سکھوں نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ اس موقع پر گورودوراہ گولڈن ٹیمپل کے ہیڈ ارداسی، مین کیرتن کے 14سکھوں کے علاوہ مقامی سکھوں کی ایک بہت بڑی تعدادنے شرکت کی۔ احتجاج کے موقع پر سکھوں نے پلے کارڈ اور بینرز بھی اٹھا رکھے تھے۔ سکھ رہنماﺅں نے کہا کہ دنیا کا کوئی بھی مذہب دوسرے مذہب کی دل آزاری کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ کے پی آئی کے مطابق سری نگر اور اننت ناگ میں بھی احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ سری نگر کی پریس کالونی میں طلباءنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور نعرے بازی کرتے رہے۔ مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت روکنے کیلئے موثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ علاوہ ازیں اننت ناگ میں ایک احتجاجی جلوس نکالا گیا۔ علاوہ ازیں جماعة الدعوة پاکستان آج اتوار کو ناصر باغ سے مسجد شہداءمال روڈ تک حرمت رسول مارچ کریگی۔ تیاریاں اور انتظامات مکمل کر لئے گئے۔ دوپہر 12 بجے شروع ہونے والے مارچ سے ملک بھر کی مذہبی و سیاسی جماعتوں کے قائدین، طلبائ، وکلاءاور تاجر رہنما خطاب کریں گے۔ امیر جماعة الدعوة حافظ محمد سعید کی طرف سے تحصیلی ذمہ داروں کو ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ وہ لاہور کے مختلف علاقوں سے قافلوں کی شکل میں لیکر ناصر باغ پہنچیں۔ گستاخانہ خاکوں کے خلاف کئے جانے والے مارچ میں سکولز، کالجز، یونیورسٹیز اور دینی مدارس کے ہزاروں طلباءسمیت مختلف مکاتب فکر اور شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد شرکت کریں گے۔ امیر جماعة الدعوة پاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ میں گستاخانہ خاکوں کو سب سے بڑی دہشت گردی سمجھتا ہوں۔
مظاہرے جاری






لاہور (وقائع نگار خصوصی+ نوائے وقت نیوز) گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کیخلاف ملک بھر کے وکلاءنے گذشتہ روز بھی احتجاج کیا، ریلیاں نکالیں اور عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔ لاہور کی سیشن کورٹ، ضلع کچہری اور کینٹ کچہری میں وکلاءعدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ ڈسٹرکٹ بار ملتان کے ہنگامی اجلاس میں مذمتی قرارداد منظور کی گئی۔ کراچی میں بھی وکلاءنے ہڑتال کی، سٹی کورٹ، ملیر کورٹ اور دیگر ماتحت عدالتوں میں کوئی وکیل پیش نہیں ہوا۔ بلوچستان بار ایسوسی ایشن کی اپیل پر صوبہ بھر کی عدالتوں کا مکمل بائیکاٹ کیا گیا۔ ملتان میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف وکلاءنے ڈسٹرکٹ بار سے گھنٹہ گھر چوک تک احتجاجی ریلی نکالی، وکلاءکی بڑی تعداد نے احتجاجی ریلی میں شرکت کی۔ اسلام آباد اور راولپنڈی بار ایسوسی ایشن کی جانب سے ہڑتال کی گئی۔ وکلاءنے فرانس کے ساتھ سفارتی تعلقات ختم کرنیکا مطالبہ کیا۔ علاوہ ازیں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے خلاف پنجاب بار کونسل اور لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے کل پیر کو ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے۔ پنجاب بار کونسل اور لاہور ہائیکورٹ بار کی جانب سے کل 19 جنوری کو عدالتی بائیکاٹ کا اعلان کرتے ہوئے وکلاءکو عدالتوں میں پیش نہ ہونے کی ہدایت کی گئی ہے۔ پنجاب بار کونسل اور لاہور ہائیکورٹ بار کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سے مسلمانوں کے جذبات کو مجروح کیا گیا ہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار کے صدر شفقت محمود چوہان نے مطالبہ کیا کہ حکومت پاکستان فرانسیسی سفیر کو ملک بدر کرے۔ مزید برآں سپریم کورٹ بار کے سیکرٹری چودھری مقصود احمد نے سپریم کورٹ بار لاہور میں ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ گستاخانہ خاکوں کے معاملے پر حکومت پاکستان موثر کردار ادا نہیں کر رہی۔ او آئی سی کا ہنگامہ اجلاس طلب کیا جائے۔ گستاخانہ خاکوں کی اشاعت سوچی سمجھی سازش ہے جس کا مقصد مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا ہے۔ اس موقع پر دیگر عہدیداروں نے بھی گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی مذمت کی۔ چیچہ وطنی سے نامہ نگار کے مطابق بار ایسوسی ایشن چیچہ وطنی نے گستاخانہ خاکوں کے خلاف تحصیل کچہری چیچہ وطنی سے احتجاجی جلوس نکالا جو مختلف راستوں سے ہوتا ہوا پریس کلب پہنچا۔ سیالکوٹ سے نامہ نگار کے مطابق سیالکوٹ میں وکلاءنے عدالتوں کا بائیکاٹ کیا اور ضلع کچہری میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا۔ وزیر آباد سے نامہ نگار کے مطابق وکلا کا ایک مذمتی اجلاس ہوا جس میں گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی شدید مذمت کی گئی۔ بعدازاں ایک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔ اوکاڑہ سے نامہ نگار کے مطابق ڈسٹرکٹ بار کے وکلاءنے احتجاج مظاہرہ کیا۔ وکلاءاحتجاجی جلوس کی شکل میں کچہری چوک آئے جہاں شدید نعرے بازی کی گئی۔ ٹوبہ ٹےک سنگھ سے نامہ نگار کے مطابق ڈسٹرکٹ بار نے مکمل ہڑتال کی۔ پاکپتن سے نامہ نگار کے مطابق ڈسٹرکٹ بار نے مکمل ہڑتال کی۔
وکلا/ احتجاج