پولیس کے مبینہ تشدد سے امام مسجد ہلاک، ورثا کا نعش سڑک پر رکھ کر احتجاج

لاہور(سٹاف رپورٹر)  ہربنس پورہ انوسٹی گیشن پولیس کے مبینہ تشدد سے امام مسجد ہلاک ہو گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی کی طبعی موت ہوئی ہے، ورثاء نے پولیس تشدد کیخلاف نعش کو سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا اور آئی جی پنجاب اور سی سی پی او لاہور سے کارروائی کی اپیل کی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ ہربنس پورہ کے علاقہ نئی آبادی کی جامعہ مسجد کے امام قاری عابد حسین پر جمعرات کو مسجد کا چندہ جمع کرنے کیلئے لائوڈ سپیکر کے غیر قانونی استعمال پر مقدمہ درج کرکے گرفتار کیا گیا اور اسے انوسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا اور انوسٹی گیشن پولیس کی جانب سے مبینہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ جمعہ کے روز مقدمہ سے ضمانت پر امام مسجد قاری عابد رہائی کے بعد گھر چلا گیا گذشتہ روز مسجد کے حجرے میں مردہ حالت میں پایا گیا جس پر امام مسجد کے ہمراہ رہنے والے ساتھیوں نے موقف اختیار کرتے ہوئے واقعہ کو پولیس تشدد بتاتے ہوئے نعش سڑک پر رکھ کر احتجاج کیا تاہم پولیس کے اعلیٰ افسران نے انصاف کی یقین دہانی اور واقعہ کی انکوائری کا حکم دیتے ہوئے مظاہرین کو منتشر کردیا۔ پولیس کے مطابق متوفی طبعی طور پر ہلاک ہوا ہے کسی نے اس پر تشدد نہیں کیا۔ پولیس کے مطابق متوفی سرگودھا کا رہائشی تھا اور گذشتہ کئی ماہ سے جامعہ مسجد نئی آبادی میں امام مسجد کے فرائض انجام دے رہا تھا۔