حکومتی رٹ نظر نہیں آتی، نوازشریف ماضی کی روایات پر قائم ہیں: لطیف کھوسہ

لاہور (سید شعیب الدین سے) سابق گورنر پنجاب اور پیپلز پارٹی کے مرکزی سیکرٹری جنرل سردار لطیف خان کھوسہ نے کہا ہے کہ اسوقت ملک میں حکومت کی رٹ نظر آتی ہے نہ وجود نظر آتا ہے۔ حکومت نے اندرونی سکیورٹی، فارن پالیسی، عدالتیں بھی فوج کے سونپ دی ہیں، اب وزارت پٹرولیم بھی انکو سونپ دیں۔ پہلے بجلی، سی این جی، گیس، پانی نہیں ملتا تھا اب پٹرول کیلئے دو، دو میل لمبی قطاریں ہیں۔ حکومت نجانے کیا کر رہی ہے، ملک کیلئے کچھ کر رہی ہے یا نہیں اپنے لئے بہت کچھ کرلیا۔ سات نسلوں کے شاہانہ انداز میں زندگی گزارنے کا بندوبست کرلیا ہے۔ نوائے وقت سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کھوسہ نے کہا کہ خدا کسی بھی ملک کے عوام کو ایسے نااہل حکمران نہ دے۔ انہوں نے کہا کہ میاں نوازشریف ماضی کی روایات پر قائم ہیں۔ اگر ملک میں کوئی اور حکومت ہوتی جس کی اتنی نالائقیاں اور ایسی حرکتیں ہوتیں تو کب کا فارغ کر دیا گیا ہوتا مگر شریف خاندان کو ’’فارغ کر دینے والی قوتوں‘‘ کو ساتھ رکھنے کا ہنر آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کسی مسیحا کے منتظر تھے۔ ان پر دکھ دینے والے حکمران مسلط ہو گئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ اداروں کو مضبوط کیا، یہ اداروں کو اپنے خادم اور لونڈی سمجھتے ہیں۔ پیپلز پارٹی کی پوری خواہش ہے کہ حکومت کیخلاف غیر آئینی تبدیلی نہ آئے۔ حکمران چاہ رہے ہیں کہ انہیں فارغ کیا جائے تاکہ وہ مظلوم بن سکیں۔ پٹرول 120 ڈالر کی اونچی ترین سطح سے 45 ڈالر بیرل کی سطح پر آگیا ہے۔ ملک میں بجلی، پٹرول سب سستا ہونا چاہئے تھا مگر ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا۔ انہوں نے کہا کہ دشمن تو ہمیں غاروں والے دور میں نہ دھکیل سکے، ہمارے حکمران اکیسویں صدی میں تانگے، بیل گاڑی کے دور میں لے آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پی ایس او، شیل، کالٹیکس اور دیگر کمپنیوں کے پاس 21 دن کا ذخیرہ ہونا چاہئے تھا وہ کہاں گیا۔ انہوں نے کہا کہ بدقسمتی کی بات ہے کہ 16 دسمبر کے سانحہ پشاور کے باوجود آج بھی گڈ اور بیڈ طالبان کی بات کی جا رہی ہے۔ مولوی عبدالعزیز جو سرکاری ملازم ہے سرکار سے تنخواہ لیتا ہے کہتا ہے کہ آرمی پبلک سکول میں جو ہوا ٹھیک ہوا۔ اس کے خلاف حکومت کارروائی نہیں کر سکتی تو پھر بیڈ گورننس اور کیا ہوتی ہے۔