پولنگ کا پرامن ماحول یقینی بنایا جائیگا، سیاسی رہنماﺅں کی سکیورٹی کیلئے تمام اقدامات کرینگے: نجم سیٹھی

لاہور (خصوصی رپورٹر+ ثناءنیوز) وزیراعلیٰ پنجاب نجم سیٹھی نے کہا ہے کہ پولیس شہریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کیلئے اپنی تمام تر صلاحیتیں بروئے کار لائے۔ امن و امان کی صورتحال میں بہتری اور جرائم کی روک تھام کیلئے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کیا جائے۔ بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی وارداتوں میں ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ایسی گھناﺅنی وارداتوں کی روک تھام کیلئے جدید خطوط پر تفتیش کی جائے۔ بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان اور مشکوک افراد کے بارے میں اطلاع کیلئے علیحدہ ہیلپ لائن قائم کی جائے گی۔ وہ ایوان وزیراعلیٰ میں اجلاسوں کی صدارت کر رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ معاشرہ کو جرائم سے پاک کرنے کیلئے پولیس لگن و محنت اور دیانتداری سے اپنے فرائض سرانجام دے۔ پولیس افسر دفاتر میں بیٹھنے کی بجائے فیلڈ میں جائیں اور لوگوں کی شکایات کا ازالہ کریں۔ عوام کو سستے اور فوری انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے تھانے میں آنے والے سائلین کی فوری دادرسی کی جائے۔ عام انتخابات کے شفاف اور پرامن انعقاد کیلئے امن و امان کی بہتری ترجیح ہے۔ سیاسی رہنماﺅں، جلسوں اور انتخابی ریلیوں کی سکیورٹی یقینی بنانے کیلئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی جائے گی اور 11مئی کو پولنگ کے لئے پرامن ماحول یقینی بنایا جائیگا۔ انہوں نے ہدایت کی کہ ریجنل اور ڈسٹرکٹ پولیس افسران امن و امان اور سکیورٹی کے حوالے سے سیاسی رہنماﺅں سے رابطے میں رہیں۔ اسلحہ کی نمائش اور ہوائی فائرنگ کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز سخت کارروائی عمل میں لائی جائے اور الیکشن کمشن کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر فوری ایکشن لیا جائے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ پرامن ماحول میں حق رائے دہی کا استعمال ووٹر کا حق ہے اور نگران حکومت امن و امان اور سیکورٹی کے چینلچ سے نمٹنے کے لئے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ حساس پولنگ سٹیشنوں کی نگرانی کے لئے ویڈیو کیمرے استعمال کئے جائیں گے۔ اور الیکشن کمشن کی وضع کردہ ضابطہ اخلاق کی ہر صورت پابندی کرائی جائے گی۔ وزیراعلیٰ نے تاریخی مقامات کی دیکھ بھال کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ قدیم اور تاریخی مقامات ہمارا قومی ورثہ ہیں۔ ان کی بحالی کے منصوبوں پر کام کی رفتار تیز کی جائے۔ انہوں نے اس حوالے سے ایک کمیٹی تشکیل دینے کی ہدایت کی جو معاملات کا جائزہ لے گی۔ انہوں نے کہا سول سیکرٹریٹ میں مقبرہ انارکلی سے آرکائیوکی منتقلی کا جائزہ لیا جائے جبکہ ہڑپہ کے آثار قدیمہ کے لئے فنڈز فراہم کئے جائیں گے۔