محکمہ ایکسائز نے پراپرٹی ٹیکس میں 300 فیصد اضافے کا منصوبہ بنا لیا

لاہور (احسان شوکت سے) محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن نے کسی قسم کا سیاسی دباﺅ اور عوامی حکومت نہ ہونے پر اہل لاہور پر ٹیکس بم گرانے کی منصوبہ بندی کر لی جس کے تحت لاہور کے مختلف علاقوں میں پراپرٹی ٹیکس میں 3 سو فیصد تک اضافہ اور ڈیڑھ سو نئی سوسائٹیوں و علاقوں کو ٹیکس نیٹ میں لا کر من مانا ٹیکس نافذ کرنے کے منصوبہ پر عملدرآمد شروع کر دیا گیا۔ منصوبے کے تحت لاہور کے مختلف ٹاﺅنز اقبال ٹاﺅن، نشتر ٹاﺅن، واہگہ ٹاﺅن اور عزیز بھٹی ٹاﺅن کے علاقوں میں واقع جائیدادوں کی ازخود کٹیگری اپ گریڈ کر دی جائیگی۔ مثال کے طور پر توسیع ایریا جن میں رائے ونڈ روڈ، ٹھوکر سے ملحقہ متعدد آبادیاں، واپڈا ٹاﺅن، جوہر ٹاﺅن سمیت درجنوں علاقوں میں جہاں پراپرٹی ٹیکس کٹیگری سی اور ڈی کے تحت وصول کیا جا رہا ہے، وہاں اب کٹیگری اے لگا کر 3 سو فیصد زیادہ ٹیکس لاگو کر دیا جائے گا۔ کٹیگری ڈی کے علاقوں میں جائیدادوں کے کورڈ ایریا پر ڈھائی روپے فی مربع فٹ جبکہ سی گٹیگری پر چار روپے فی مربع فٹ پراپرٹی ٹیکس لاگو ہے۔ کٹیگری اے لگانے پر یہ ٹیکس ڈھائی روپے سے بڑھ کر 10 روپے جبکہ 4 روپے سے بڑھ کر 12 روپے ہو جائے گا۔ جوہر ٹاﺅن، بحریہ ٹاﺅن، کینال ویو، ڈیفنس روڈ، ملتان روڈ، واپڈا ٹاﺅن، نیسپاک سوسائٹی، پنجاب گورنمنٹ ہاﺅسنگ سوسائٹی، گرین فورٹ، اعظم گارڈن، اقبال ٹاﺅن، توسیعی ایریا، ویسٹ وڈ کالونی، مصطفی ٹاﺅن، اعوان ٹاﺅن، موہلنوال، رائے ونڈ روڈ، مانگا منڈی، مین فیروز پور روڈ، بیدیاں روڈ، کاہنہ کاچھا، ویلنشا ٹاﺅن، کینال روڈ صحافی کالونی، برکی روڈ اور دیگر علاقوں کی ڈیڑھ سو کے قریب سوسائٹیوں کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے ساتھ ٹیکس بڑھایا جا رہا ہے۔ محکمہ ایکسائز حکام نے 30 یوم میں عملدرآمد کیلئے افسران کو احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ ذرائع کا کہنا یہ بھی ہے کہ سابق حکمران محکمہ ایکسائز کو عوامی دباﺅ سے بچنے کیلئے یہ ٹاسک دیا گیا۔