خسرہ پر قابو نہ پایا جا سکا، لاہور 3 فیصل آباد میں ایک بچہ جاں بحق

لاہور+فیصل آباد (نمائندہ خصوصی+نوائے وقت نیوز+این این آئی+سپیشل رپورٹر) پنجاب میں خسرے کے مرض میں تاحال قابو نہ پایا جا سکا۔ چار ماہ کے دوران صوبے بھر میں ہلاکتوں کی تعداد اب 47 ہو چکی ہے،محکمہ صحت پنجاب کے مطابق چوبیس گھنٹوں کے دوران لاہور،گوجرانوالہ،فیصل آباد،راجن پور،سیالکوٹ،ملتان،اور مظفرگڑھ سمیت صوبے کے دیگر اضلاع میں مزیدستر بچوں میں خسرے کے مرض کی تشخیص ہوئی ہے،چار ماہ میں متاثرہ بچوں کی تعداد اب 8871تک جا پہنچی ہے،اس وقت لاہور کے مختلف سرکاری ہسپتالوں میں خسرے کے مرض میں مبتلا 80بچے زیرعلاج ہیں۔علاوہ ازیں میوہسپتال میں خسرے سے مزید تین بچے ہلاک جبکہ فیصل آباد میں ایک بچہ جاں بحق ہوگیا ہے۔ لاہور میں مرنے والے بچوں کی تعداد27 ہو گئی۔ محکمہ صحت پنجاب کی جانب سے خسرے کی وباءمےں مبتلا مرےضوں کی تعدا د مےں اضافہ ہونے کے باوجود کوئی بھی اقدامات نہ کیے جاسکے ،جس کی وجہ سے خسرے سے متاثرہ مرےضوں کی تعدا د بھی بڑھنے لگی جبکہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مزید 124نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ بتایاگیا ہے کہ میو ہسپتال میں سات ماہ کا اعجاز اور ایک سالہ اقرا اور دو سالہ فضاءجان کی بازی ہار گئے۔ پنجاب میں جنوری سے اب تک 9ہزار سے زائد بچے خسرے کا شکار ہوئے ہیں جن میں سے 48 بچے جاں بحق ہو چکے ہیں۔چوبیس گھنٹوں کے دوران مختلف ہسپتالوں میں مزید 124نئے کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق محکمہ صحت نے ہسپتالوں کی انتظامیہ کو خسرہ سے متاثرہ مریضوں کی تعداد بارے میڈیا کو آگاہ کرنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ اور اس حوالے سے متعلقہ ےونٹس کے انچارج اور پروفےسرز کو سختی سے ہداےات کی گئی ہےں کہ خسرے سے متاثرہ مرےضوں کی ہسپتالوں مےں داخلے سمےت دےگر معاملات کے حوالے سے محکمہ کے سوا کسی بھی دےگر شخص سے کوئی بات نہ کی جائے اور جاں بحق ہونے والے بچوں کے ورثاءکو بھی اعتماد مےں لےا جائے کہ وہ کسی قسم کا کوئی بےان نہ دےں اور ہسپتالوں مےں جو بچے زےر علاج ہےں ان کے کوائف بھی خفےہ رکھے جائےں۔