امیدواروں کا ریکارڈ آج نہ آیا تو کل متعلقہ اداروں کے سربراہ پیش ہوں: ہائیکورٹ

لاہور(وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ نے قرار دیا ہے کہ بادی النظر میں لگتا ہے کہ سکروٹنی کے عمل سے کئی ایسے امیدوار بھی گزر گئے جو اہل نہ تھے۔ فاضل عدالت نے یہ ریمارکس آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 پر عملدرآمد کے لئے دائر درخواست کی سماعت کے دوران دیئے۔ فاضل عدالت نے نادہندہ امیدواروں کا ریکارڈ پیش نہ کرنے پر انتہائی برہمی کا اظہار کرتے ہوئے قرار دیا کہ اگر آج 18 اپریل کو ریکارڈ پیش نہ کیا گیا تو جمعہ کے روز (کل) ان اداروں کے سربراہ عدالت میں پیش ہوں۔ گزشتہ روز مسٹر جسٹس اعجاز الاحسن، مسٹر جسٹس منصور علی شاہ اور مسٹر سید مظاہر علی اکبر نقوی پر مشتمل فل بنچ نے کیس کی سماعت کی۔ ایف بی آر کے نمائندے نے موقف اختیار کیا کہ ان کے ریکارڈ کے مطابق تقریباً دو سو امیدوار ناہندہ تھے۔ فاضل عدالت نے کہا کہ ہم کو ریکارڈ چاہئے۔ گزشتہ روز درخواست گزار محمد اظہر صدیق نے آئین کے آرٹیکل I 63 این اور I 63 او پر بحث کرتے ہوئے موقف اختیار کیا کہ سکروٹنی کو شفاف بنانے کے لئے اداروں نے کچھ نہیں کیا اور الیکشن کمشن بھی آرٹیکل (3)218 کے تحت اپنے اختیارات استعمال کرنے میں ناکام رہا۔ سماعت آج تک ملتوی کردی گئی۔