پاکستان کو جدید اسلامی‘ فلاحی‘ جمہوری ملک بنانے کیلئے ہر شخص اپنا کردار ادا کرے: ڈاکٹر مجید نظامی

پاکستان کو جدید اسلامی‘ فلاحی‘ جمہوری ملک بنانے کیلئے ہر شخص اپنا کردار ادا کرے: ڈاکٹر مجید نظامی

لاہور(خصوصی رپورٹر) دوقومی نظریہ پاکستان کی بنیاد ہے۔ حکومت نے دہشتگردی پر قابو پانے کیلئے آپریشن کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے اور میرے خیال میں یہ کام جلد ہو جانا چاہئے۔ پاکستان کو ایک جدید اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنانے کیلئے ہر ایک کو اپنا کردار اداکرنا چاہئے۔ ان خیالات کا اظہار تحریک پاکستان کے سرگرم کارکن‘ ممتازصحافی اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین ڈاکٹر مجید نظامی نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان‘ شاہراہ قائداعظمؒ، لاہور میں نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے بورڈ آف گورنرز کے چودھویں اجلاس کے دوران اپنے صدارتی خطاب میں کیا۔ اس موقع پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے بورڈ آف گورنرز کے ممبران سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان محمد رفیق تارڑ، نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد، سابق وزیر اعلیٰ سندھ و ممتاز مسلم لیگی رہنما سید غوث علی شاہ، وفاقی شرعی عدالت کے سابق چیف جسٹس میاں محبوب احمد، کرنل (ر) جمشید احمد ترین، چوہدری نعیم حسین چٹھہ، نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیف کوآرڈی نیٹر میاں فاروق الطاف، ولید اقبال ایڈووکیٹ، سابق چیئرمین واپڈا لیفٹیننٹ جنرل (ر) ذوالفقار علی خان، بیگم مہناز رفیع اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید بھی موجود تھے۔ اجلاس کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ ڈاکٹر مجید نظامی نے اپنے خطاب میں کہا کہ نظریۂ پاکستان یعنی دوقومی نظریہ پاکستان کی بنیاد ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ پورے پاکستان میں یہ واحد ادارہ ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے نظریۂ پاکستان کی ترویج و اشاعت اور فروغ کیلئے دن رات کام کررہا ہے۔ انہوں نے کہا قائداعظمؒ کے نام نامی سے منسوب عظیم الشان قومی منصوبہ ایوان قائداعظمؒ کے فیز1کا کام تقریباً مکمل ہو چکا ہے اور اس سال یہ ایوان فنکشنل ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا ایک وقت تھا جب کراچی روشنیوں کا شہر کہلاتا تھا لیکن آج وہاں بدامنی کا راج ہے جس کا جلد خاتمہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا پاکستان کو ایک جدید اسلامی فلاحی جمہوری ملک بنانے کیلئے ہر ایک کو اپنا کردار اداکرنا چاہئے۔ ہم نئی نسلوں کو یہ بتا رہے ہیں کہ پاکستان کیوں اور کیسے بنا، ہندو کون تھا اور وہ ہمارا ازلی دشمن کیوں ہے؟ اب تک ہم لاکھوں طلبا و طالبات تک اپنا پیغام پہنچا چکے ہیں اور ہم نئی نسل کی نظریاتی تعلیم و تربیت کر رہے ہیں۔ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے 16اپریل سے 14جون2014ء تک ٹرسٹ کی کارکردگی رپورٹ پیش کرتے ہوئے بتایا کہ یہ ادارہ اپنی نوعیت کا منفرد ادارہ ہے اور یہ جن مقاصد کیلئے قائم کیا گیا تھا ہم ان مقاصد کے حصول کیلئے مسلسل سرگرم عمل ہیں۔ ہم نئی نسلوں کے ذہنوں میں نظریۂ پاکستان راسخ کرنے کے ساتھ ساتھ ان میں احساس تفاخر بھی پیدا کررہے ہیں۔ سابق وزیر اعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ نے کہا کہ میرا یہاں آنے کا مقصد سندھ کے لوگوں کو یہ پیغام دینا ہے کہ یہ پورے پاکستان کا ادارہ ہے‘ اس میں ملک بھر سے لوگوں کو شامل کیا جائے۔ آج ہم جو کچھ ہیں پاکستان کی بدولت ہیں۔ ایوان قائداعظمؒ جلد تعمیر ہونا چاہئے۔ اس موقع پر انہوں نے تجویز دی کہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے بورڈ آف گورنرز کا آئندہ اجلاس کراچی میں منعقد ہونا چاہئے۔ چیف جسٹس (ر) میاں محبوب احمد نے کہا کہ نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کا بورڈ آف گورنرز مقاصد کے حصول کیلئے موثر کردار ادا کررہا ہے۔ کرنل (ر) جمشید احمد ترین نے کہا کہ قائداعظمؒ نے ہمیں ہندوئوں اور انگریزوں کی غلامی سے نجات دلائی۔ حکومت کا یہ فرض ہے کہ قائداعظمؒ کے نام سے منسوب ایوان کی تعمیر کیلئے بھرپور مدد کرے تاکہ یہ ایوان جلد تعمیر ہو۔ بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی محب وطن ہیں لہٰذا ایوان قائداعظمؒ کی تعمیر کیلئے اوورسیز پاکستانیوں سے بھی فنڈز کیلئے اپیل کی جائے۔ چوہدری نعیم حسین چٹھہ نے کہا کہ ایوان قائداعظمؒ کی تعمیر کیلئے ملک بھر میں موجود چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز سے رابطہ کیا جائے، وہ اس سلسلے میں ہماری مالی معاونت کرسکتے ہیں۔ ولید اقبال ایڈووکیٹ نے کہا کہ خواتین ہماری آبادی کا نصف حصہ ہیں لہٰذا ہمیں اس کام میں خواتین کی زیادہ سے زیادہ شمولیت کو یقینی بنانا چاہئے۔ شاہد رشید نے اراکین بورڈ آف گورنرز کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا کہ ڈاکٹر مجید نظامی کی متحرک قیادت میں ادارے کی سرگرمیوں کو روز بروز فروغ حاصل ہورہا ہے۔ ہمارا فوکس نئی نسلوں پر ہے اور ہم ان کی نظریاتی تعلیم وتربیت پر خاص توجہ دے رہے ہیں۔  اجلاس کے آغاز میں غلام حیدر وائیں، سید فصیح اقبال، محمود علی اور وفات پاجانیوالے کارکنان تحریک پاکستان کی بلندیٔ درجات کیلئے دعاکی گئی۔ اجلاس کے دوران اراکین نے گذشتہ کارروائی کی توثیق بھی کی۔ اجلاس کے آخر میں جسٹس (ر) منیر احمد مغل نے دعا کروائی۔