وزیراعظم کالا باغ ڈیم پر دوسرے صوبوں کو قائل کریں : اپوزیشن لیڈر پنجاب

وزیراعظم کالا باغ ڈیم پر دوسرے صوبوں کو قائل کریں : اپوزیشن لیڈر پنجاب

لاہور (خبر نگار+ خصوصی رپورٹر+ کامرس رپورٹر+ سپیشل رپورٹر+ سپورٹس رپورٹر) پنجاب اسمبلی میں بجٹ پر بحث کے دوران سرکاری ارکان اسمبلی نے بجٹ کو عوام دوست، غریب دوست، متوازن اور ترقیاتی بجٹ قرار دیا۔ اپوزیشن نے اسے نمائشی، فرمائشی اور نوکر شاہی کا تیار کردہ بجٹ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ پیپلزپارٹی کے ارکان نے لوڈشیڈنگ کے مسئلہ پر وزیراعلیٰ کو مینار پاکستان پر احتجاجی کیمپ لگانے کی دعوت دی جبکہ تحریک انصاف نے وفاقی حکومت سے کالا باغ ڈیم پر صوبوں میں اتفاق رائے پیدا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ قائد حزب اختلاف میاں محمودالرشید نے بجٹ پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ اگر حکومت کے ذہن پر میٹرو بس کا بھوت سوار رہے گا، تعلیم و صحت اور امن کو فوکس نہیں کیا جائیگا تو پھر صوبے کے حالات ٹھیک نہیں ہوسکتے۔توانائی بحران بدستور برقرار ہے، کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے حکومت صوبوں کو قائل کرے، حقیقی معنوں میں سستی بجلی پیداکی جائے، امن و امان قائم کرنے کیلئے وزیراعلیٰ کو چاہئے کو آئی جی پولیس کو بااختیار کریں، کام میں اپنی مداخلت نہ کریں۔ حکومت یکساں نظامِ تعلیم رائج کرے۔ تعلیم و صحت کو نظرانداز کیا جارہا ہے، ایک کروڑ 20لاکھ بچے پنجاب میں سکول جانے کے قابل ہیں مگر وہ سکول نہیں جارہے حکومت اس پر توجہ دے، چار پانچ دانش سکول بنانے سے صوبے میں تعلیم کا مسئلہ حل نہیں ہوسکتا۔کالا باغ ڈیم کبھی پنجاب کا ایشو ہوا کرتا تھا آج ایسا نہیں ہے سب سے سستی بجلی کالاباغ ڈیم سے پیداہوسکتی ہے،کالاباغ ڈیم پر دوسرے صوبوں کوقائل کرنے کے لئے وزیراعظم کو اپنا کردار اداکرنا چاہئے۔ جو لوگ ٹیکس نیٹ میں نہیں ان کو ٹیکس نیٹ میں لایاجائے۔ پنجاب 451ارب کا مقروض ہو چکا ہے۔ ایک طرف صوبہ مقروض ہے تو دوسری طرف شہباز شریف نے لاہور میں جگہ جگہ کیمپ آفس بنائے ہیں اور انکے دفاتر کے اخراجات میں سو فیصد اضافہ ہوا ہے۔ وہ پنجاب پر رحم کریں روزانہ 11 لاکھ 11 ہزار کا خرچہ نہ کریں۔ لاہور میں 70 فیصد لوگ پینے کے صاف پانی سے بھی محروم ہیں۔ بجٹ میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے افتخار خان‘ ثاقب علی اور شہباز نامی تین افراد کو تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے دئیے ہیں بتایا جائے یہ کس حیثیت اور مد میں دئیے گئے ہیں اور ان تینوں افراد کا کس سے تعلق ہے۔ پنجاب میں خان بیگ بے اختیار آئی جی رہے ہیں، میں نے انکی بے بسی کو دیکھتے ہوئے کسی جائز کام کے لئے جانا بھی چھوڑ دیا ہے۔ حکومتی رکن اسمبلی محمود خان لغاری نے کہا کہ انتہائی شاندار بجٹ پیش کرنے پر وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف، وزیر خزانہ میاں مجتبٰی شجاع الرحمان اور انکی ٹیم کو مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ میاں نصیر احمد نے کہا کہ پنجاب نے دیگر تینوں صوبوں سے مثالی بجٹ پیش کیا ہے۔ نذر حسین گوندل کا کہنا تھا کہ حکومت نے قابل ستائش بجٹ پیش کیا۔ آصف باجوہ نے کہا کہ بجٹ میں ترقی کا روڈ میپ دیا گیا ہے۔ نادیہ عزیر کا کہنا تھا کہ یہ بجٹ عام آدمی کا بجٹ ہے جس میں غریب عوام پر کوئی بوجھ نہیں ڈالا گیا۔ رکن اسمبلی امانت اﷲ شادی خیل نے کہا کہ موجودہ حکومت کی مثبت پالیسوں کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کاری ملک میں آنا شروع ہو گئی ہے۔ محمد انیس قریشی نے کہا کہ میری حکومت سے اپیل ہے کہ کوڑا کرکٹ سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبوں پر بھی کام کیا جائے۔ میاں طارق محمود نے کہا کہ موجودہ بجٹ میں ضروریات زندگی کی تمام شعبوں کو مد نظر رکھا گیا ہے۔ یاسین سوہل نے کہا کہ پنجاب حکومت اگلے چار سال میں جو ترقی کے پروگرام دینے جا رہی ہے اس سے اپوزیشن نام کی چیز تک باقی نہیں رہے گی۔ میاں عرفان دولتانہ نے کہا کہ وزیر اعلٰی پنجاب میاں شہباز شریف کی کوشش سے عوام دوست بجٹ پیش کیا گیا ہے۔ محمد غیاث الدین نے کہا کہ اپوزیشن ارکان اچھی چیزوں کو بھی تنقید کر کے اپنی سیاست چمکانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اشرف انصاری نے کہا کہ موجودہ بجٹ کی وجہ سے پاکستان ایک مرتبہ پھر ترقی کی موٹر وے پر چل نکلے گا۔ رانا منور حسین نے کہا کہ بجٹ میں جنوبی پنجاب کے لئے بھاری فنڈز رکھ کر وہاں کے عوام کی محرومیوں کو دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ سرکاری رکن شیخ علاؤالدین نے کہا کہ پرائیویٹ سکول کالجز کو سروسز سیلز ٹیکس نیٹ ورک میں لایا جائے۔ لاکھوں روپے روزانہ کمانے والے ڈاکٹروں اور ایک ایک کیس میں ایک کروڑ فیس لینے والے ڈاکٹروں پر ٹیکس لگایا جائے۔ ق لیگ کے ڈپٹی پارلیمانی لیڈر سردار وقاص حسن اختر موکل نے کہا کہ ان کے حلقے پی پی 180 کیلئے بجٹ میں ایک روپے کی سکیم نہیں رکھی گئی۔ عبدالرزاق ڈھلوں نے حکومت کو مبارکباد پیش کی۔ میاں محمد رفیق نے بجٹ کو غریب، عوام دوست، متوازن، ترقیاتی، سوشل ترقی کا روڈ میپ قرار دیا۔ پارلیمانی سیکرٹری فنانس رانا بابر حسین نے کہا کہ جنوبی پنجاب کے عوام کو اس بجٹ میں ان کے حصے سے زیادہ دیا گیا ہے۔ سرکاری رکن اسمبلی قاضی عدنان نے کہا کہ جنوبی پنجاب کی طرف سے شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہیں۔ قاضی احمد سعید نے کہا کہ پنجاب کا بجٹ نمائشی اور  فرمائشی ہے۔ ہمارے دور میں ایک سے 50 یونٹس استعمال کرنے والے فی یونٹ تین روپے پچاس پیسے جبکہ موجودہ حکومت کے دور میں نو روپے فی یونٹ لئے جارہے ہیں۔ پیپلزپارٹی کے دور میں شہباز شریف ہاتھ میںپنکھا لے کر مینار پاکستان پر احتجاجی کیمپ لگاتے رہے ہیں۔ شہباز شریف مینار پاکستان پر لوڈ شیڈنگ کے خلاف احتجاجی کیمپ لگائیں ہم بھی انکے ساتھ شریک ہوں گے ۔ مسلم لیگ (ن) کے اصغر علی منڈا نے کہا کہ پنجاب کا بجٹ قومی اور عوامی امنگوں کے مطابق ہے۔ مسلم لیگ (ن) کی عظمیٰ بخاری نے کہا کہ 10 فیصد تنخواہوںپر اضافے پر مسلم لیگ (ن) کی حکومت کوتنقید کا نشانہ بنانے والی پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی اپنی صوبائی حکومتوں نے بھی تو اس شرح سے اضافہ کیا ہے وہاں 50 فیصد کیوں نہیں کیا گیا۔
پنجاب اسمبلی / بجٹ بحث