ملک کی بیشتر جماعتوں نے فوجی آپریشن کو ’’دیر آید درست آید‘‘ قرار دیدیا

ملک کی بیشتر جماعتوں نے فوجی آپریشن کو ’’دیر آید درست آید‘‘ قرار دیدیا

لاہور (فرخ سعید خواجہ) وزیراعظم محمد نوازشریف کی ہدایت پر شمالی وزیرستان میں شروع کئے گئے فوجی آپریشن کے بعد ملک کی تمام دینی و سیاسی جماعتوں نے اپنے اپنے اجلاس میں صورتحال پر غور کرکے عمومی طور پر فوجی آپریشن کی حمایت کر دی ہے۔ قومی اسمبلی میں وزیراعظم پاکستان کی دوٹوک تقریر کہ دہشت گردی اور مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، سے واضح ہو گیا ہے کہ مذاکرات کا باب بند ہو چکا ہے تاہم اس بات کا امکان موجود ہے کہ طالبان کے 59گروپوں میں سے وہ گروپ جو پاکستان اور پاکستانیوں کو نقصان پہنچانے میں شامل نہیں تھے اور مذاکرات کے ذریعے افہام و تفہیم کے خواہشمند تھے وہ اس جنگ میں غیرجانبدار ہو جائیں گے جو سیاسی جماعتیں فوجی آپریشن کی بجائے مذاکرات چاہتی تھیں، انکی جانب سے بھی فوجی آپریشن کی کھل کر مخالفت دیکھنے میں نہیں آئی۔ ملک کی بیشتر جماعتوں نے فوجی آپریشن کو دیر آئید درست آئید قرار دیا ہے۔ تحریک انصاف کی جانب سے آپریشن سے پہلے انہیں اور انکی خیبر پی کے حکومت کو اعتماد میں نہ لئے جانے کا شکوہ کیا گیا ہے تاہم انکی جانب سے بھی فوجی آپریشن کی مخالفت نہیں کی گئی اور افواج پاکستان سے یکجہتی کا اظہار کیا گیا ہے۔ طالبان کے زبردست حامی مولانا سمیع الحق بھی کراچی ائرپورٹ پر حملے کی ذمہ داری بیک وقت تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد، تحریک طالبان پاکستان (مہمند) کے سربراہ عمر خالد خراسانی اور تحریک اسلامی ازبکستان کے امیر عثمان غنی کی جانب سے قبول کئے جانے کے بعد دفاعی پوزیشن پر چلے گئے ہیں تاہم مذاکرات کے حامل اب بھی اس نقطہ نظر کے حامل ہیں کہ ماضی میں فوجی آپریشن کئی برس جاری رہنے کے باوجود کامیاب نہیں ہوا لہٰذا اب بھی فوجی آپریشن طول پکڑے گا اور ملک کا نقصان ہو گا جبکہ مذاکرات بہتر رہتے تاہم اب رائے کے حامل افراد اور جماعتوں کی آواز معدوم ہوتی چلی جائے گی۔