لاہور میں غازی روڈ پر ریٹائرڈ پروفیسر کی بیوی‘ بیٹے‘ بیٹی کی گھر میں پراسرار موت

لاہور (نامہ نگار) فیکٹری ایریا کے علاقہ غازی روڈ پر ریٹائرڈ پروفیسر کے گھر میں سے اسکی بیوی، بیٹے اور بیٹی کی خون میں لت پت نعشیں برآمد ہوئیں ہیں۔ 55سالہ فضلیت بی بی، 24سالہ فائزہ اور 20سالہ فیضان کی موت معمہ بن گئی جبکہ پروفیسر کا کہنا ہے کہ اس کی بیوی، بیٹے اور بیٹی نے ڈیفنس مکان لے کر نہ دینے پر خود گولیاں مارکر اجتماعی خودکشی کی۔ پولیس نے نعشیں قبضے میں لیکر پوسٹ مارٹم کیلئے بھجوا دیں۔ بتایا جاتا ہے کہ فیکٹری ایریا کے علاقہ غازی روڈ گلی نمبر ایک کباڑئیے والی گلی کا رہائشی پروفیسر محمد عاصم گورنمنٹ کالج میں ریٹائرمنٹ کے بعد اقبال ٹائون کے پرائیویٹ کالج میں پڑھا رہا ہے۔ وہ گزشتہ صبح کالج گیا جب واپس آیا تو گھر کے گھر کے مین گیٹ پر باہر سے تالا لگا ہوا تھا اس نے متعدد بار اپنے گھر کی بیل بجائی، دروازہ کھٹکھٹایا اور اپنے اہل خانہ کے موبائل فونز پر ٹیلی فونز کئے مگر کوئی جواب نہ ملا پھر اس نے محلے داروں کو اکٹھا کیا ایک بچے کو دیوار پر چڑھاکر گھر کے روشندان سے جھانکنے کیلئے کہا بچے نے روشندان سے اندر دیکھا کہ تینوں ماں، بیٹی اور بیٹے کی نعشیں خون میں لت پت پڑی تھیں۔ اطلاع پر پولیس نے گھر کے مین گیٹ کا تالا توڑ کر نعشیں قبضے میں لیکر مردہ خانہ بھجوا دیں، شواہد جمع کئے۔ بیوی، بیٹی اور بیٹے کو خون میں لت پت مردہ حالت میں دیکھ کر پروفیسر عاصم وقتی طور پر خواس باختہ ہو گیا۔ بعد میں اس نے بتایا کہ اس کی بیوی فضیلت، بیٹی اور بیٹا اکثر اس سے گھر پوش علاقے میں خریدنے کیلئے لڑائی جھگڑا کرتے تھے مگر وہ اس بات پر بضد تھا کہ وہ گھر یہاں سے تبدیل نہیں کریگا یہ گھر اس کا آبائی ہے۔ بیوی بچے اسے مختلف طریقوں سے ہراساں کرتے تھے کہ وہ اپنے ساتھ کچھ کر لیں گے۔ ایک ہی خاندان کے تین افراد کی گھر سے خون آلود نعشیں ملنے پر جائے وقوعہ پر لوگوں کی بڑی تعداد جمع ہو گئی اور آپس میں اس خولناک واردات کے بارے میں مختلف چہ مگوئیاں کرتے رہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ حالات مشکوک ہیں تینوں افراد نے خودکشی ہے یا پھر ان کو قتل کیا گیا ہے۔ اس اندھی واردات کے اصل محرکات اور حقائق تفتیش مکمل ہونے کے بعد سامنے آ جائیں گے۔ واضح رہے کہ پروفیسر کا ایک بیٹا سلاطین بیرون ملک مقیم ہے۔