حکومت نئے ڈاکٹروں کے باہر جانے پر 3سے 5سال کی پابندی ضرور لگائے: ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس خالد محمود خاں نے 2800 ڈاکٹروں سے جوائننگ کے وقت حلف نامہ لینے کیخلاف دائر درخواستوں پر تفصیلی فیصلہ جاری کرتے ہوئے قرار دیا ہے کہ نئے ڈاکٹروں پر بیرون ملک جانے کی پابندی کا فیصلہ درست ہے جبکہ ڈاکٹروں کا دیہاتوں کے بنیادی صحت مراکز پر جا کر ڈیوٹی دینا انکے بنیادی حقوق کے خلاف ورزی نہیں۔ درخواستیں مسترد کرتے ہوئے فاضل عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں قرار دیا کہ اپنے ملک میں میڈیکل کی تعلیم حاصل کرکے ڈاکٹر بننے کے بعد بیرون ملک چلے جانا ایک انتہائی تکلیف دہ بات ہے حکومت کایہ موقف درست ہے کہ ایک ڈاکٹر بننے پر قومی خزانے سے خطیر رقم خرچ ہوئی ہے لہٰذا ایک خاص مدت تک یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے ملک میں بطور ڈاکٹر خدمات سرانجام دیں۔ 12 صفحات پر مشتمل فیصلے میں فاضل عدالت نے قرار دیا کہ حکومت نئے ڈاکٹروں کے بیرون ملک جانے پر 3سے 5سال تک ضرور پابندی لگائے۔