آپریشن میں دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے تباہ کئے جائیں، بورڈ آف گورنرز نظریہ پاکستان ٹرسٹ

لاہور (خصوصی رپورٹر) نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے بورڈ آف گورنرز کا چودھواں اجلاس ٹرسٹ کے چیئرین ڈاکٹر مجید نظامی کی زیر صدارت منعقدہوا جس میں قومی امنگوں کی ترجمان متعدد قراردادیں پیش کی گئیں جنہیں ممبران بورڈ آف گورنرز نے متفقہ طور پر منظور کر لیا۔ ایک قرارداد کے مطابق اجلاس کے شرکاء نے بھارت میں مسلمان دشمن اور انتہا پسند ہندوجماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے برسر اقتدار آنے کے متعلق اپنے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے پاکستانی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے حوالے سے اپنی پالیسی پر نظر ثانی کرے اور بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے مسلمانوں اور پاکستان کیخلاف مذموم عزائم پر کڑی نگا ہ رکھے۔ ایک اور قرارداد میں شرکائے اجلاس نے حال ہی میں کراچی ایئر پورٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور اس سانحہ میں شہید ہونے والے بہادر سکیورٹی اہلکاروں کو خراج عقیدت پیش کیا اور ان کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا۔ ایک دوسری قرارداد میں حکومت کی طرف سے شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ’’ضربِ عضب‘‘ کا خیر مقدم کیا گیا۔ قرارداد میں کہا گیا ہے کہ ملک کی وحدت اور سلامتی کے خلاف سرگرم عمل عناصر کا ریاستی طاقت کے ذریعے قلع قمع کیا جانا ناگزیر ہے۔ قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ مقامی آبادی کو نقصان پہنچائے بغیر دہشت گردوں کے تمام ٹھکانے تباہ کر دیئے جائیں۔ قرارد اد میں اس امر پر اظہار اطمینان کیا گیا کہ دہشت گردی کے خاتمے کی پالیسی میں حکومت اور عسکری اداروں کی سوچ اور عمل میں ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ ایک قرارداد میں بنگلہ دیش میں مشتعل افراد کی طرف سے محصور پاکستانیوں کے کیمپ پر حملے اور اس میں خواتین اور بچوں سمیت 10افراد کو زندہ جلانے کی بھی مذمت کی گئی اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بنگلہ دیش کی حکومت سے اس واقعہ پر اظہار تشویش کرے اور پاکستان سے محبت کرنے والے ان محصورین کو پاکستان میں لانے کا فوری بندوبست کرے۔ ایک قرارداد میں اجلاس کے شرکاء نے وفاقی حکومت کی طرف سے سرکاری تقریبات میں قومی ترانہ باآواز پڑھنے کو لازم قرار دینے کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ تمام نجی و سرکاری تعلیمی اداروں میں قومی ترانہ کے ساتھ کلام اقبالؒ پڑھنے کو بھی لازم قرار دیا جائے۔ ایک قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت وطن عزیز کے قدرتی ماحول اور جنگلی حیات کے تحفظ نیز پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کیلئے جامع منصوبہ بروئے کار لائے۔ ایک قرارداد کے ذریعے اجلاس کے شرکاء نے ملک دشمن عناصر کی طرف سے ملک میں فرقہ ورانہ کشیدگی اور مسلکی بنیادوں پر اختلافات کو ہوا دینے کی کوششوں پر گہری تشویش کا اظہارکیا اور قوم سے اپیل کی کہ اپنی صفوں میں مکمل اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی برقرار رکھے۔ ایک قرارداد میں میڈیا کے چند مخصوص عناصر کی جانب سے بانیٔ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی شخصیت اور نظریۂ پاکستان کو ہدفِ تنقید بنائے جانے کے تحفظ نیز پائیدار ترقی کو یقینی بنانے کیلئے جامع منصوبہ بروئے کار لائے۔ ایک قرارداد کے ذریعے حکومت سے مطالبہ کیا گیاکہ وہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر کا فوری آغاز کرے اوربجلی پیدا کرنے کے دیگر منصوبوں کو بھی جلد پایۂ تکمیل تک پہنچائے۔ ایک قرارداد میں حکومت کو یاددلایا گیا کہ قائداعظمؒ نے کشمیر کو سیاسی اور فوجی اعتبار سے پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا اور وہ آخری دم تک کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے متمنی تھے۔ لہٰذا ہماری سیاسی اور عسکری قیادت قائداعظمؒ کی خواہش کو عملی جامہ پہنانے کی خاطر پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کے خلاف جہاد کا اعلان کرے۔ اجلاس کے شرکاء ذرائع ابلاغ کے ایک مخصوص حلقے کی جانب سے ’’امن کی آشا‘‘کے نام پر بھارت سے دوستی کے پرچار کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ایک اور قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ وہ نیا نصاب تعلیم تیار کرتے وقت اس کی ہر سطح پر نظریۂ پاکستان کی شمولیت کو یقینی بنائے تاکہ ہماری نسل نو کو وطن عزیز کی اساس اور اہمیت و عظمت سے آگہی حاصل ہو سکے۔ ایک اور قرارداد میں کہا گیا ہے کہ حکومتِ پاکستان آزاد خارجہ پالیسی اختیار کرے جس میں اسلامی ممالک اور عوامی جمہوریۂ چین کے ساتھ تعلقات کو خصوصی اہمیت دی جائے۔ ایک قرارداد میں حکومت سے مطالبہ کیا گیاہے کہ وہ میڈیا کے لیے ایک ضابطۂ اخلاق مرتب کر کے اس کی سختی سے پابندی کروائے۔ قرارداد میں پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (PEMRA) سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ پاکستان میں بھارتی ٹیلی ویژن چینلز کی نشریات پر پابندی پر سختی سے عمل درآمد کروائے۔ ایک قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ خواتین کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جائے اور ان کی جان و مال اور عزت و آبرو کو لاحق خطرات کا فوری سدِباب کیا جائے۔ ایک قراردادمیں کہاگیا ہے کہ یہ اجلاس ملک میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری اور اس کے نتیجے میں ہونیوالے برین ڈرین (Brain Drain) پر شدید تشویش کا اظہار کرتا ہے اور حکومت سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ اقتصادی صورتحال کو بہتر بنانے کی طرف بھرپور توجہ دے تاکہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو باعزت روزگار میسر آ سکے۔