آپریشن عظیم جہاد ہے‘ فوج سے تعاون شرعی طور پر فرض ہو چکا: طاہر القادری

آپریشن عظیم جہاد ہے‘ فوج سے تعاون شرعی طور پر  فرض ہو چکا: طاہر القادری

لاہور (این این آئی) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے پاک فوج کے دہشتگردوں کیخلاف ’’ضرب عضب‘‘ آپریشن کو عظیم جہاد اور اسکی مکمل حمایت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے ہر شہری پر پاک فوج سے تعاون اور حمایت شرعی طور پر فرض ہو چکا ہے، میری وطن واپسی سے پاک فوج کے کو مزید حوصلہ اور ہمت ملے گی، پاک فوج کسی بھی اندرونی یا بیرونی دبائو میں آکر اس آپریشن کو معطل کرنے کی بجائے اسے منطقی انجام تک پہنچائے، میں اس ملک کا شہری ہوں حکمران مجھے کس قانون کے تحت ڈی پورٹ کریں گے؟ حکمران ماضی میں پرویز مشرف کی طرف سے ڈی پورٹ کرنے کا بدلہ مجھ سے لینا چاہتے ہیں تو اپنا شوق پورا کر لیں لیکن ہم نے بھی چوڑیاں نہیں پہن رکھیں اور حکومت کے کسی بھی منفی اقدام سے انکی حکومت کے خاتمے کا وقت مہینوں اور دنوں کی بجائے گھنٹوں میں رہ جائے گا۔ ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا پاکستان اس وقت نہایت مشکل حالات سے گزر رہا ہے اور پاکستان کے داخلی دفاع اور سلامتی کی حفاظت کے لئے انتہائی اہم جنگ لڑی جا رہی ہے جس کے باعث پوری قوم پر فریضہ عائد ہوتا ہے وہ پاک فوج کے شانہ بشانہ چلے۔ پاک فوج ہمیشہ خارجی اور داخلی محاذ پر اور ریاست پاکستان کی محافظ رہی ہے۔ انہوں نے کہا پاک فوج نے ملک بھر میں دہشتگردی‘ شدت پسندی اور انتہا پسندی کے خاتمے کیلئے شمالی وزیرستان میں جس آپریشن کا آغاز کیا ہے میری جماعت اور پوری قوم اسکی مکمل حمایت کرتے ہیں اور میں اس اقدام کو ملکی دفاع کے لئے عظیم جہاد قرار دیتا ہوں اور اب ہر شہری پر شرعی فریضہ عائد ہوتا ہے وہ پاک فوج کی حمایت کرے۔ انہوں نے کہا میں کارکنوں کو ہدایت دیتا ہوں وہ یونین کونسل کی سطح پر تنظیموں کو ’’دفاع پاکستان کمیٹیوں‘‘ میں منتقل کر لیں اور گلی کوچے میں دہشتگردی کی سازش کو ناکام بنا کر پاک فوج کی مدد کریں۔ میں سیاسی و مذہبی جماعتوں سے مطالبہ کرتا ہوں وہ موجودہ حالات میں قوم کو انتشار میں مبتلا کرنے کی بجائے یکجا کریں۔ انہوں نے کہا حکمرانوں نے دراصل دس ماہ تک مذاکرات کے نام پر دہشتگردوں کو مزید طاقتور ہونے‘ اسلحہ جمع کرنے کا موقع فراہم کیا اور دہشتگردوں نے اس دوران کروڑوں ڈالر کا اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد اکٹھا کیا اور اسی وجہ سے وہ دوبارہ حساس تنصیبات پر حملہ کرنے کے قابل ہوئے۔ حکمرانوں نے قطعی طور پر دلی رضامندی سے آپریشن کی حمایت نہیں کی اور یہ ایک دن پہلے تک مذاکرات کے نام پر دہشتگردوں کے ساتھ کھڑے تھے۔ وزیراعظم کے پاس اب آپریشن کی حمایت کے بغیر کوئی چارہ نہیں تھا۔ میں اعلان کے مطابق 23 جون کو اسلام آباد ائرپورٹ پر پہنچوں گا۔ انہوں نے کہا آپریشن اور انقلاب دو الگ ایجنڈے ہیں ،آپریشن بھی چلتا رہے گا اور انقلاب بھی، میں انقلاب کے ذریعے پور ے ملک کو امن دینا چاہتا ہوں بلکہ میری وطن واپسی سے پاک فوج کے جوانوں کو حوصلہ اور ہمت ملے گا اور ہم پاک فوج کی حمایت میں تحریک چلائیں گے۔ انہوں نے کہا پاک فوج کو مذہبی جماعتوں کے فتوے کی ضرورت نہیں بلکہ انکے پاس نبی کریمؐ کا فرمان موجود ہے۔
طاہر القادری