بھروسہ کیا

ظفر علی راجا
عدو ہو‘ لفظ ہو‘ یا کوئی ہندسہ
بھروسا کیا کسی کا‘ اب یہاں پر
قبائیں ہیں خزانہ بند‘ پھر بھی
بھرم کھلتے ہیں روز و شب یہاں پر