پی پی، ق لیگ سے اتحاد کے وقت نظام مصطفٰی کے نفاذ کا وعدہ لیا: فضل کریم

لاہور (خصوصی نامہ نگار) سنی اتحاد کونسل کے چیئرمین صاحبزادہ فضل کریم نے کہا ہے کہ انتخابات ہی احتساب کا بہترین ذریعہ ہے، پاکستانی سیاست دعووں، وعدوں اور نعروں کے گرد گھومتی ہے، ٹیکس چوری کے کلچر نے پاکستان کی معاشی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے، ٹیکس نظام کو بہتر کر کے عالمی اداروں کی بھیک سے جان چھڑا سکتے ہیں، سندھو دیش کا نعرہ لگانے والوں سے اتحاد حب الوطنی نہیں۔ اقوام متحدہ عالمی تنازعات حل کرنے میں ناکام ہو چکی ہے۔ نظامِ مصطفی ہی تمام مسائل کا حل ہے۔ پیپلز پارٹی اور ق لیگ سے اتحاد کے وقت نظام مصطفٰی کے نفاذ کا وعدہ لیا ہے۔ سیاست دانوں کا ماضی کی غلطیوں سے سبق نہ سیکھنا بدنصیبی ہے۔ بلوچستان میں مشرقی پاکستان والا کھیل دہرایا جا رہا ہے۔ پاکستان کے دشمنوں نے پاک فوج اور قوم میں دوریاں پیدا کرنے کی مہم شروع کر رکھی ہے۔ کشمیر اور پانی کا مسئلہ حل کئے بغیر بھارت سے دوستی قوم کو قبول نہیں ہے۔ ڈاکٹر سرفراز نعیمی شہید کا خون پنجاب حکومت پر قرض ہے، سانحہ¿ داتا دربار کے ملزمان کو گرفتار نہ کرنے والوں کو داتا کے دیوانے ووٹ نہیں دیں گے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سنی اتحاد کونسل نشتر ٹاﺅن کے زیر اہتمام ٹاﺅن شپ میں نظامِ مصطفی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ کنونشن سے پیر اطہر القادری، مولانا ضیاءاللہ رضوی، رانا شرافت قادری، مفتی حسیب قادری، نواز کھرل، غلام شبیر فاروقی، ذوالفقار مصطفی ہاشمی، مولانا ظہور اللہ رضا، ذوالفقار رضوی نے بھی خطاب کیا۔ صاحبزادہ فضل کریم نے کہا کہ اسلام کے نفاذ کے سلسلہ میں ماضی اور حال کی تمام حکومتوں اور تمام جماعتوں کا ٹریک ریکارڈ ایک جیسا ہے۔ دہشت گردوں کی حمایت ترک نہ کرنے پر مسلم لیگ ن سے راہیں جدا ہوئیں۔ سیاستدانوں نے ہوش کے ناخن نہ لئے تو جمہوریت کو ڈھونڈتے پھریں گے۔ بھارت برصغیر کا بھیڑیا اور ایشیائی فرعون ہے۔ طالبانائزیشن پاکستان کے لیے ناسور بن چکی ہے، ووٹوں کے لیے دہشت گردوں کی سرپرستی کرنے والے پاکستان کے وفادار نہیں غدار ہیں۔ کنونشن میں ایک قرارداد کے ذریعے پشاور میں دہشت گردی کے بدترین واقعہ کی شدید مذمت کی گئی اور مطالبہ کیا گیا کہ حکومت دہشت گردوں کو سزائیں دینے کے لیے نئے قوانین بنائے۔ سیاسی و مذہبی جماعتوں کے مسلح ونگز ختم کروائے جائیں۔