نہر میں کودنے والے طاہر کی موت معمہ بن گئی، بچوں کی نعشیں ماں کو دینے کا حکم

لاہور (نامہ نگار+ وقائع نگار خصوصی) اپنے تین کمسن بچوں کو بی آر بی نہر میں دھکا دینے کے بعد مبینہ طور پر خود چھلانگ لگانے والے طاہر کی نعش نہ ملنے پر اسکی موت ایک معمہ بن گئی اور اب یہ خدشات جنم لینے لگے ہیں کہ طاہر نے بچوں کو قتل کرنے کے بعد خود چھلانگ لگا کر خودکشی کی ہے بھی کہ نہیں، کہیں وہ خود فرار تو نہیں ہوگیا۔ ہلاک ہونیوالے تینوں بچوں 6 سالہ عدنان، 5 سالہ علی رضا اور ساڑھے تین سالہ علیشا کی نعشیں وقوعہ کی سہ پہر ہی بی آر بی نہر سے مل گئیں جنہیں ورثا کے حوالے کر دیا گیا مگر حافظ طاہر کی لاش گزشتہ روز بھی نہر سے نہ مل سکی۔ غوطہ خوروں نے تلاش جاری رکھی جبکہ طاہر کے گھر والے نہر کنارے بیٹھے ساری رات دعائیں کرتے رہے۔ دوسری طرف طاہر کی بیوی شاہدہ کی جانب سے بھی پولیس کو درخواست دیدی گئی ہے کہ اسکے خاوند طاہر، دیور سلیم اور جیٹھ نے تینوں بچوں کو نہر میں دھکا دیکر قتل کیا ہے جبکہ میرا خاوند بچوں کو مارنے کے بعد خود موقع سے فرار ہو گیا ہے۔ پولیس نے تاحال اس درخواست پر کوئی کارروائی نہیں کی۔ پولیس کے مطابق جب تک طاہر کی لاش نہر سے برآمد نہیں ہوجاتی تب تک حتمی رائے نہیں دی جاسکتی۔ پولیس کے مطابق شاہدہ کی درخواست پر تفتیش جاری ہے۔ اصل حقائق سامنے آنے پر انکی روشنی میں مزید کارروائی کی جائیگی۔ قبل ازیں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نے تینوں بچوں کی نعشیں ان کی ماں شاہدہ کے حوالے کرنے کا حکم دیدیا۔ شاہدہ نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ اس کے بچوں کو اس کے خاوند طاہر نے جان بوجھ کر نہر میں دھکا دیکر ہلاک کیا اور فرار ہوگیا۔ بچوں کی موت کے ذمہ دار اس کا شوہر اور سسر ہیں ان کیخلاف مقدمہ درج کیا جائے۔ عدالت نے درخواست پر کارروائی 20 جولائی تک م¶خر کردی۔