مسلم لیگ (ن) کا امیدوار 12 سال بعد ایوان صدر پہنچے گا

لاہور (اشرف ممتاز+ایجنسیاں) صدارتی الیکشن کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔ اگلے چند روز میں الیکشن کمشن صدارتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان کردیگا جس کے بعد مسلم لیگ (ن) کا کوئی امیدوار 12 سال بعد صدر کے عہدے پر فائز ہو گا۔ اگرچہ پیپلز پارٹی باقی تمام جماعتوں کو ساتھ ملا کر مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں متفقہ صدارتی امیدوار لانے کی کوششوں میں مصروف ہے تاہم ان کوششوں کے بارآور ثابت ہونے کا فی الحال کوئی امکان نظر نہیں آرہا۔ مسلم لیگ کی جانب سے صدر کیلئے وزیراعظم کے سکیورٹی و خارجہ امور کے مشیر سرتاج عزیز یا غوث علی شاہ کو صدر کے امیدوار کے طور پر آگے لانے کی توقع ہے تاہم زیادہ امکان سابق وزیر خارجہ سرتاج عزیز کو نامزد کرنے کا ہی ہے۔ ایک تو شریف برادران سرتاج عزیز کے صدر ہونے میں زیادہ آسانی محسوس کریں گے کیونکہ وہ مسلم لیگ کے سیکرٹری بھی رہ چکے ہیں، دوسرا ان کا تعلق بھی چھوٹے صوبے خیبر پی کے سے ہے۔الیکشن کمشن نے کہا ہے کہ صدارتی انتخابات کے شیڈول کا اعلان نو اگست سے قبل کردیا جائیگا۔ امیدوار کا پاکستانی ووٹر ہونا ضروری ہے الیکشن کمشن کے ترجمان کے مطابق کاغذات نامزدگی کی چھپائی کا کام مکمل کرلیا ہے کاغذات نامزدگی فارم میں امیدوار کو تجویز کنندہ اور تائید کنندہ کی تفصیلات بتانا ہونگی امیدوار کا پاکستانی ووٹر ہونا لازم ہوگا۔آئی این پی کے مطابق الیکشن کمشن نے قومی، چاروں صوبائی اسمبلی اور سینٹ سے صدارتی ا نتخاب کیلئے ارکان کے ناموں کی فہرست طلب کرلی۔ الیکشن کمشن نے صوبائی اسمبلیوں، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ اور سینیٹ سیکرٹریٹ کو خط لکھ کر صدارتی انتخابات کے حوالے سے ارکان کی فہرست طلب کر لی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ اسمبلیوں اور سینٹ کے ارکان صدارتی الیکشن کے ووٹرز ہیں، الیکشن کمشن نے سیکرٹریٹس کو واضح طور پر ارکان اسمبلیوں و سینٹ کے نام پر حروف تہجی کی ترتیب سے فراہم کرنے کی ہدایت کی۔