لوڈشیڈنگ کے خلاف پرتشدد مظاہرے‘ حکمرانوں کی نااہلی اور عوام سے جھوٹے وعدوں کا شاخسانہ ہیں : منور حسن

لوڈشیڈنگ کے خلاف پرتشدد مظاہرے‘ حکمرانوں کی نااہلی اور عوام سے جھوٹے وعدوں کا شاخسانہ ہیں : منور حسن

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی پاکستان سید منورحسن نے ملک میں بدترین لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہروں اور توڑ پھوڑ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے حکمرانوں کی نااہلی اور عوام سے جھوٹے وعدوں کا شاخسانہ قرار دیا اور کہا کہ لوڈشیڈنگ نے رمضان المبارک میں عوام کی پریشانیو ں میں مزید اضافہ کر دیا۔ لوگوں کو سحری و افطاری کے وقت شدید مشکلات کا سامنا ہے اور مسجدوں میں وضو کے لئے پانی تک دستیاب نہیں ہوتا۔ گزشتہ دور حکومت میں لوڈشیڈنگ کے خلاف مینار پاکستان گراﺅنڈ میں کیمپ لگانے والے اب اپنے خلاف عوامی احتجاج پر سیخ پا ہو رہے ہیں۔ حکمران اپنے بلند و بانگ دعوﺅں کی وجہ سے عوامی غیظ و غضب کا نشانہ بنے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اپنے وعدے پورے نہ کئے اور ظالمانہ لوڈشیڈنگ پر قابو نہ پایا تو مجبوراً عوام کے ساتھ سڑکوں پر آنا پڑے گا۔ سید منورحسن نے کہاکہ موجودہ حکومت نے توانائی بحران پر قابو پانے کو اپنی پہلی ترجیح قرا ر دے کر اور لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے وعدے کرکے قوم سے ووٹ لئے تھے اب انہیں اقتدار سنبھالے دو ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے مگر لوڈشیڈنگ کم ہونے کی بجائے کئی گنا بڑھ گئی۔ بجلی چوروں کو پکڑکر نشان عبرت بنانے کے دعوے کرنے والوں کی ناک کے نیچے بجلی چوری ہو رہی ہے جس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ بڑے چور حکومتی صفوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں۔ بجلی و گیس چوروں کو ناصرف حکومتی ، ایم این ایز اور ایم پی ایز کی سرپرستی حاصل ہے بلکہ خود ممبران قومی و صوبائی اسمبلی کی بڑی تعداد اس شرمناک دھندنے میں ملوث ہے۔ فیکٹریوں اور کارخانوں میں ہونے والی بجلی چوری کا بل بھی غریب عوام کے کھاتے میں ڈال دیا جاتا ہے۔ واپڈا اہلکار کرپٹ نظام کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کام چوری کے ساتھ ساتھ بجلی چوری کرانے میں بھی ”مہارت“ حاصل کر چکے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ صرف چیئرمین واپڈا کو عہدے سے ہٹا دینے سے کام نہیں چلے گا جب تک چند سو بڑے بڑے بجلی و گیس چوروں کو پکڑ کر جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں پھینک دیا جاتا‘ بجلی چوری ختم ہو سکتی ہے نہ عوام مطمئن ہوں گے۔ سید منورحسن نے کہاکہ حکمران بجلی پیدا کرنے کے قومی ذرائع کو استعمال میں لانے‘ پاور پلانٹس کی استعداد کار بڑھانے اور نئے ڈیمز کی تعمیر کی بجائے بھارت سے بجلی خریدنے کے تیار ی کر رہے ہیں، یہ اقدام خود اپنے پاﺅں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہے۔ بھارت ہمارے دریاﺅں پر بند باندھ کر اور غیر قانونی ڈیمز بنا کر بجلی پیدا کرکے ہمیں فروخت کرنا چاہتا ہے جبکہ حکمران بھارت کو ڈیمز کی تعمیر اور پانی چوری روکنے کی بجائے بھارت سے بجلی خریدنے کی تیاری کر رہے ہیں۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ احتجاج کو پرامن رکھیں اور قانون ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کی جائے۔