سادگی پالیسی کا مذاق‘ لیسکو افسران نے 40 اے سی اضافی لگوا لئے

لاہور (ندیم بسرا) لیسکو کے افسران نے وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلی پنجاب کی کفایت شعاری اور سادگی کی پالیسی کا مذاق اڑاتے ہوئے لیسکو ہیڈ آفس میں کمرے ٹھنڈے کرنے کے لئے سینٹرل اے سی کے ساتھ 31 لاکھ روپے کے 2 ٹن سے زائد صلاحیت کے 40 اے سی اضافی لگا لئے۔ لیسکو ہیڈ آفس میں گریڈ 18 سے 20 کے افسران کے تمام کمروں میں 40 سے زائد نئے اے سی حال ہی میں لگائے گئے ہیں۔ ذرائع کے مطابق وزیراعظم نوازشریف اور وزیراعلی کے شہباز شریف نے ملک بھر کے سرکاری دفاتر میں افسران کو سادگی اپنانے اور ملکی پیسے کا کم سے کم ضیاع کرنے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ پنجاب میں تمام افسروں اور دیگر دفاتر میں اے سی 11 بجے کے بعد چلانے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ صرف رمضان میں اے سی صبح دفتری اوقات میں چلانے کے احکامات جاری کئے ہیں۔ مگر بجلی کی سب سے بڑی تقسیم کار کمپنیوں میں سے ایک لاہور الیکٹرک سپلائی کمپنی کے اعلی افسران نے اس پالیسی کا مذاق اڑاتے ہوئے بجلی کی بچت کو یقینی بنانے کی بجائے الٹا بجلی کا ضیاع شروع کر دیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ لیسکو میں اس وقت ایک سے ڈیڑھ ماہ کے دوران 40 نئے اے سی خریدے گئے ہیں جن کی مالیت 31 لاکھ روپے کے قریب بنتی ہے۔ اس وقت لیسکو کے چیف ایگزیکٹو آفس، ایچ آر ڈیپارٹمنٹ، سیکرٹری میپکو، جی ایم ٹیکنیکل، کسٹمر سروسز ڈائریکٹر، آپریشن ڈائریکٹر، آپریشن منیجر، ڈی جی میچ او سمیت 14 سے زائد ایسے دفاتر میں 2 ٹن سے زائد صلاحیت کے اے سی لگا دیئے ہیں۔ اس وقت لیسکو میں تمام کمزوں میں سینٹرل اے سی نصب ہیں مگر اس کے باوجود قومی خزانے پر لاکھوں روپے کا بوجھ ڈال دیا گیا ہے۔ اس بارے میں لیسکو کے متعدد افسران سے رابطہ کرکے صورتحال معلوم کی گئی جنہوں نے اس بارے میں کوئی بھی وضاحت نہیں کی تاہم بعض افسران نے ہنستے ہوئے جواب دیا کہ سرکاری اے سی 11 بجے چلتے ہیں کیا ہم 3 گھنٹے گھر ہی میں بیٹھیں رہیں۔ اگر کمرے ٹھنڈے رہیں گے تب ہی صارفین کے مسائل حل ہوں گے۔