راﺅ مظہر کی نااہلی کیس، سماعت 30 ستمبر تک ملتوی، آئینی نکات پر وضاحت طلب

لاہور (وقائع نگار خصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے این اے 138 قصور سے مسلم لیگ (ن) کے سابق ایم این اے راﺅ مظہر حیات کی نااہلی کےلئے دائر کو وارنٹو کی درخواست پر سماعت 30 ستمبر کیلئے ملتوی کرتے ہوئے آئینی نکات پر وضاحت طلب کرلی۔ گذشتہ روز عدالتی معاون اظہر صدیق نے عدالت کو بتایا راﺅ مظہر حیات نے تقریباً پانچ سال بحیثیت ایم این اے گزارنے کے بعد اس وقت استعفی دیدیا جب لاہور ہائیکورٹ میں یہ کیس چل رہا تھا اور فاضل عدالت کی طرف سے ریکارڈ طلب کیا گیا تھا۔ راﺅ مظہر حیات نے پانچ سال پورے کر لئے اِس نشست پر آئین کے آرٹیکل 224 کی روشنی میں ضمنی انتخاب بھی نہیں ہو سکتا تھا ضمنی انتخاب کم از کم اسمبلی کی مدت ختم ہونے سے 120 دن پہلے ہو سکتا ہے۔ راﺅ مظہر حیات پہلے دن سے ہی الیکشن لڑنے کے اہل نہیں تھے۔ لہٰذا اس پر رٹ آف کووارنٹو کا اطلاق ہو گا۔ انہوں نے 5 سال میں جتنی تنخواہیں اور فائدے حاصل کئے وہ واپس کرنے ہونگے۔ ان کا استعفیٰ دینے کا مقصد ہے وہ ایم این اے تھے۔ ان کا استعفیٰ مان لیا جائے تو اُن کی ایم این اے ہونے کی حیثیت برقرار ہو جائیگی۔ اس لئے عدالت ان کے استعفیٰ کی بجائے نااہل قرار دے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا جسٹس خالد محمود خان نے قرار دیا تھا پاکستانی اور انڈین قانون کی روشنی میں جب پارلیمنٹیرین استعفیٰ دیدے تو آرٹیکل 199 کو سامنے رکھتے ہوئے آئینی درخواست غیر م¶ثر ہو جائیگی۔ اِس لئے جب متعلقہ پارلیمنٹیرین اپنے عہدے پر نہیں رہا تو ہائیکورٹ کیا فیصلہ کر سکتی ہے اِس پر محمد اظہر صدیق نے بتایا پارلیمنٹ کا ممبر ہونا بڑی عزت و تعظیم کی بات ہے اِس میں آرٹیکل 62 اور 63 نے معیار مقرر کیا ہے کوئی اِس معیار پر پورا نہیں اترتا تو وہ عہدہ نہیں رکھ سکتا۔ اِس لئے لاہور ہائیکورٹ کو اِس ممبر نیشنل اسمبلی کو اُس کے کاغذاتِ نامزدگی داخل کرنے کے دن سے ہی نااہل قرار دینا چاہئے۔ مدعی ارباب جہانگیر کے وکیل نے عدالت کو بتایا تقریباً دو سال یہ مقدمہ چلا مگر انہوں نے اپنی اسناد پیش نہ کیں اور 6 فروری کو استعفیٰ دےدیا یوں یہ اقرار ہے اور وہ اِس بات کو تسلیم کرتے ہیں وہ ایم این اے نہیں بن سکتے تھے۔ چیف جسٹس عمر عطاءبندیال نے راﺅ مظہر حیات کی طرف سے التوا کی درخواست منظور کرتے ہوئے سماعت 30 ستمبر تک ملتوی کرتے ہوئے عدالتی معاون محمد اظہر صدیق اور فریقین کے وکلا کو ہدایات جاری کیں آئندہ تاریخ تک آرٹیکل 199(1)(b)(1) کو سامنے رکھتے ہوئے عدالت کی معاونت کریں کہ جب پبلک آفس ہولڈر آئینی درخواست کی سماعت کے دوران استعفیٰ دے یا ریٹائرڈ ہو جائے تو کیا ہائیکورٹ کو اختیار ہے وہ اِس کو نااہل قرار دے سکے اور جب پارلیمنٹیرین استعفیٰ دے تو کیا یہ اِس کا اقرار ہے؟ اگر ہے تو ایسی صورت میں ہائیکورٹ کے پاس کیا اختیار ہو گا۔