حکومت کا قومی سلامتی پالیسی کی تیاری پر تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ

لاہور (آئی این پی) حکومت نے قومی سلامتی پالیسی کی تیاری پر تمام سٹیک ہولڈرز کو اعتماد میں لینے کا فیصلہ کر لیا ہے، امن و امان اور قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں، پارلیمانی پارٹیوں اور سیاسی و دینی جماعتوں کی قیادت کے ساتھ مشاورت اور تجاویز کو شامل کر کے وزیراعظم نوازشریف متفقہ قومی سلامتی پالیسی کا اعلان کریں گے، اس سلسلے میں حکومت نے تمام سٹیک ہولڈرز کو مرحلہ وار اعتماد میں لینا شروع کر دیا ہے۔ پیر کو میڈیا رپورٹس کے مطابق ملک میں خودکش بم دھماکوں، ڈرون حملوں، بلوچستان کی اندرونی صورتحال، کراچی میں آئے روز ہونے والی ٹارگٹ کلنگ وقتل غارت اور بھتہ خوری، اغوا برائے تاوان کی بڑھتی ہوئی وارداتیں، لاپتہ افراد اور افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے تناظر میں وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار احمد کو وزارت داخلہ کے حکام جبکہ دورہ چین سے واپسی پر وزیراعظم نوازشریف کو آئی ایس آئی حکام کی تفصیلی بریفنگ کے اگلے مرحلے میں حکومت اب پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہان سے رابطے کرنے جا رہی ہے جن میں ان مسائل پر مشاورت کے علاوہ تجاویز بھی طلب کی جائیں گی اور ان میں سے بعض کو قومی سلامتی پالیسی کا حصہ بھی بنایا جائے گا۔ حکومت کی طرف سے اس سلسلے میں جلد پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہان سے ملاقاتوں کا سلسلہ شروع کیا جا رہا ہے۔ فاٹا ارکان کے علاوہ قبائلی عمائدین کو بھی اس عمل میں شامل کیا جائے گا۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات سینیٹر پرویز رشید نے اس امر کی تصدیق کی ہے قومی سلامتی پالیسی کے سلسلے میں جلد پارلیمانی پارٹیوں کے سربراہان سے رابطے کئے جائیں گے جن کی آ¶ٹ پٹ لینے کے بعد اسے قومی سلامتی پالیسی کا حصہ بنانے پر غور کیا جائے گا۔ ثناءنیوز کے مطابق حکومت نے آل پارٹیز کانفرنس میں قومی قیادت کو پیش کرنے کیلئے سات نکاتی نیشنل سکیورٹی پالیسی تیار کر لی۔ ذرائع کے مطابق مجوزہ سکیورٹی پالیسی کیلئے تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے مشاورت کی گئی ہے۔