ترقیاتی کاموں میں فائر سیفٹی کمشن کی سفارشات سے استفادہ کیا جائے: ہائیکورٹ

ترقیاتی کاموں میں فائر سیفٹی کمشن کی سفارشات سے استفادہ کیا جائے: ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے مسٹر جسٹس سید منصور علی شاہ نے فائر سیفٹی کمشن کی سفارشات کو انتہائی کارآمد و مفید قرار دیدیا۔ عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا ہے کہ متعلقہ حکام کو چاہئے کہ لاہور میں ہونیوالے ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ان سفارشات سے استفادہ کریں۔ فاضل جج نے حکم دیا کہ یہ سفارشات ڈی جی ایل ڈے اے اور ایڈمنسٹریٹر سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ لاہور کو بھیجی جائیں تاکہ وہ شہر میں آئندہ تعمیر ہونیوالی عمارتوں کی منصوبہ بندی اور نقشہ جات کی منظوری کے وقت ان سفارشات کو ملحوظ خاطر رکھیں اور لاہور کے شہریوں کو طویل مدتی بنیادوں پر سکیورٹی فراہم کی جاسکے۔ محمد شعیب سلیم ایڈووکیٹ کی جانب سے آگ لگنے کے واقعات کی روک تھام کے حوالے سے دائر کیس کی سماعت کے دوران فائر سیفٹی کمشن کے چیئرمین ڈاکٹر رضوان نصیر نے عدالت کو بتایا کہ کمشن شہر میں بلند و بالا عمارتوں کا معائنہ کرنا چاہتا ہے مگر ایل ڈی اے اور سٹی ڈسٹرکٹ گورنمنٹ نے تاحال ایسی عمارتوں کی فہرستیں فراہم نہیں کیں جس پر عدالت نے دونوں محکموں کے سرکاری وکلا کو ہدایت کی کہ مطلوبہ فہرستیں کمشن کے سیکرٹری رافع عالم کو پندرہ روز کے اندر فراہم کی جائیں تاکہ کمشن ایسی تمام عمارتوں کا سروے کر سکے۔ کمشن کی سفارشات میں لوہے کی بیرونی سیڑھیاں، فائر ڈورز، ہائیڈرنٹ سسٹم، آگ بجھانے کے آلات کی تنصیب، فائر الارم کا نظام، آگ لگنے کی جگہ تک رسائی اور رکاوٹوں کا خاتمہ، انخلا کا انتظام، ایمرجنسی لائٹس کی تنصیب اور فوری امدادی ٹیم کی موجودگی شامل ہیں۔ کمشن کی طرف سے سفارش کی گئی ہے کہ ایسی تمام عمارتیں جنکی اونچائی 38 فٹ سے زیادہ ہے اور ان میں باہر نکلنے کا راستہ نہیں ہے ان میں لوہے کی بیرونی سیڑھیاں لگائی جائیں تاکہ ہنگامی حالات کے پیش نظر محفوظ انخلا کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایسی عمارتیں جو کہ 10,000 مربع فٹ کے ایریا پر مشتمل ہیں ان کے دونوں جانب ایک ایک بیرونی سیڑھی کی تنصیب ضروری ہے۔ کمشن نے تجویز دی ہے کہ تمام اونچی عمارتوں میں بیرونی سڑھیوں کے ساتھ ساتھ اندورنی یا بیرونی پریشرائزڈ ہائیڈرنٹ سسٹم موجود ہونا چاہئے۔ ہائیڈرنٹ سسٹم کو علیحدہ بجلی کی فراہمی ہو۔ تمام کثیر المنزلہ عمارتوں میں ہائیڈرنٹ سسٹم کےلئے اوور ہیڈ یا بیرونی زیر زمین پانی کے ٹینک ہوں اور تمام گاڑیوں اور ریسکیو ٹیمیوں کو زیر زمین ٹینک تک رسائی حاصل ہو۔ ایسی تمام عمارتوں میں آگ بجھانے کے آلات اور جامع فائر الارم سسٹم کی تنصیب بھی ہونی چاہئے۔ ایسی تمام عمارتوں میں بلڈنگ سیفٹی مینجر تعینات کیا جائے جو کہ کمشن کی سفارشات پر عملدرآمد کو یقینی بنائے اور ضرورت کے وقت فوری طور پر عمارت خالی کروائے۔