پولیس کا مبینہ تشدد‘ انسپکٹر کے قتل کے مقدمہ میں گرفتار ملزم ہلاک‘ لواحقین کا احتجاج

لاہور (نامہ نگار) سی آئی اے کینٹ پولیس کے مبینہ تشدد سے ایف آئی اے انسپکٹر کے قتل کے مقدمہ میں ملوث گرفتار ملزم ہلاک ہو گیا۔ پولیس کے مطابق اس نے گلے میں پھندا لے کر خود کشی کی ہے۔ ہلاک ہونے والے شخص کے لواحقین نے تھانہ کے باہر پولیس کے خلاف شدید احتجاج کیا اور الزام عائد کیا ہے کہ پولیس نے ان کے بیٹے عاقب کو وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا۔ جس سے اس کی ہلاکت ہوگئی اور پھر پولیس نے خودکشی کا ڈرامہ رچا دیا ہے۔ سی سی پی او لاہور کیپٹن (ر) محمد امین وینس نے واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے ذمہ دار اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سی آئی اے پولیس کینٹ نے وفاقی کالونی کے رہائشی ایف آئی اے کے ملازم مقبول کے بیٹے عاقب مقبول کو تین ماہ قبل جوہر ٹائون کے علاقہ میں قتل ہونے والے ایف آئی اے کے انسپکٹر اصغرکے قتل کے الزام میں گرفتار کیا اور اس سے تفتیش جاری تھی۔ گذشتہ روز وہ تھانے میں پولیس کے مبینہ تشدد سے ہلاک ہوگیا۔ لواحقین کو معلوم ہوا تو انہوں نے اہل علاقہ کے ہمراہ تھانہ کے باہر پولیس کے خلاف شدید احتجاج اور نعرے بازی کی۔ پولیس نے موقف اختیار کیا کہ ملزم عاقب سے تفتیش جاری تھی اس پر پولیس نے تشدد نہیں کیا بلکہ اس نے قتل کے خوف سے گلے میں پھندا لیکر خود کشی کرلی ہے۔