پنجاب کی جیلوں میں موبائل فونز کی موجودگی مسلسل خطرہ بننے لگی

لاہور (میاں علی افضل) پنجاب کی جیلوں میں موبائل فونز کی موجودگی جیلوں کے لئے خطرہ بنتی جا رہی ہے۔ جیلوں سے مسلسل موبائل فونز کی برآمدگی نے ان کی سکیورٹی پر سوالیہ نشان بنا دیا ہے۔ آئی جی جیل خانہ جات کے احکامات پر ڈھائی ماہ کے دوران پنجاب بھر کی جیلوں میں سرچ آپریشن کے دوران مزید 289 موبائل فونز برآمد کئے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ 143 موبائل سمز اور 131 چارجر بھی برآمد کئے گئے ہیں۔ جیلوں میں موبائل فونز سمز اور چارجر پہنچانے والوں کے خلاف موثر کارروائی نہ ہونے سے ان کی جیلوں کے اندر رسائی کا سلسلہ جاری ہے۔ خطرناک ملزم اور مجرم موبائل فون کے ذریعے اپنے ساتھیوں سے رابطے میں رہتے ہیں اور جیلوں میں بیٹھ کر بھتہ خوری کرتے ہیں۔ اپنے کیسوں کے مدعیوں کو ڈراتے دھمکاتے ہیں۔ جیلوں میں سرچ آپریشن کے ساتھ ساتھ موبائل سمز اور چارجز پہنچانے والے جیل اہلکاروں کے خلاف کارروائی بھی ناگزیر ہو گئی ہے۔ گذشتہ ڈھائی ماہ کے دوران لاہور ریجن کی جیلوں سے مجموعی طور پر 92 موبائل فون برآمد کئے گئے۔ اس کے ساتھ ساتھ 74 سمز اور 48 چارجر بھی برآمد ہوئے۔ فیصل آباد کی جیلوں میں مجموعی طور پر 161 موبائل فون 62 سمز 69 چارجر راولپنڈی ریجن کی جیلوں میں 34 موبائل برآمد 7سمز اور 14 چارجر ملتان ریجن کی جیلوں سے صرف 2 موبائل فون برآمد کئے گئے چارجر اور سم برآمد نہیں کی جا سکیں۔