لاہور‘ کراچی میں 2 مجرموں کو پھانسی‘ ناکافی ثبوتوں پر 10 کی سزائے موت کالعدم‘ رہائی کا حکم

لاہور + کراچی (وقائع نگار خصوصی+ سٹاف  رپورٹر) کراچی اور لاہور میں سزائے موت کے 2 مجرموں کو پھانسی دیدی گئی۔ زاہد اور سعید کو پولیس اہلکاروں کے قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی۔ پھانسی سے قبل دونوں مجرموں کا میڈیکل چیک اپ سمیت دیگر ضروری کارروائی کی گئی اور اس کے بعد انہیں پھانسی گھاٹ لے جایا گیا۔کوٹ لکھپت جیل لاہور مجرم زاہد کو پھانسی دی گئی۔ زاہد عرف زادو نے 1998 میں ملتان میں 2 پولیس اہلکاروں کو قتل کیا تھا۔ کراچی میں کرائم رپورٹر کے مطابق کراچی سینٹرل جیل میں مجرم سعید کو پھانسی دے دی گئی۔سعید نے 2001ء میں ریٹائرڈ ڈی ایس پی صابر حسین اور ان کے بیٹے کو قتل کیا تھا۔ پھانسی سے قبل دونوں مجرموں کی ورثاء سے آخری ملاقات کرائی گئی۔ پھانسی گھاٹ کی طرف جاتے ہوئے دونوں دہشتگردوں کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔ نعشیں ورثا کے حوالے کر دی گئیں۔ پھانسی کے وقت جیل کے اطراف سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کئے گئے تھے۔ مزید برآں ادھر کوٹ لکھپت جیل میں قید مجرم اکرام الحق عرف لاہوری کے بلیک وارنٹ بھی موصول ہوگئے۔ جیل ذرائع کے مطابق اکرام الحق کو 17جنوری کو پھانسی دی جائے گی۔ لاہور ہائیکورٹ راولپنڈی بنچ نے امام بارگاہ شاہ نجف خودکش حملہ کیس کے چار ملزموں کی سزائے موت کالعدم قراد دیتے ہوئے انہیں بری کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا ہے صرف شک کی بنیاد پر کسی کو سزا نہیں دی جا سکتی۔ عدالت نے اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا ہے کہ چاروں ملزموں کا واقعے میں مخصوص کردار نہیں بتایا گیا جس شہادت پر انہیں سزا ملی اسی شہادت پر مقدمے کے دیگر پانچ ملزموں کو بری کیا گیا۔ راولپنڈی بنچ نے انسداد دہشتگردی کی عدالت کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے فضل امین، طاہر عرف کمانڈو، حافظ نصیر اور حبیب اللہ کی رہائی کا حکم دے دیا۔ دریں اثناء لاہور میں وقائع نگار خصوصی کے مطابق اکرام الحق عرف لاہوری نے دوبارہ ڈیتھ وارنٹ جاری کرنے کے اقدام کو لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا۔ لاہور ہائیکورٹ میں دائر کی جانیوالی درخواست میں اکرام الحق کی جانب سے موقف اختیارکیاگیاکہ مقتول کے لواحقین سے باضابطہ طور پر صلح ہوچکی ہے اس حوالے سے مقتول کے لواحقین ہائیکورٹ میں بیان قلمبند کروانا چاہتے ہیں لہذا ٹرائل کورٹ کی جانب سے جاری کئے گئے ڈیتھ وارنٹ پر عمل درآمد روکا جائے ٹرائل کورٹ نے صلح نہ ہونے پر اکرام الحق لاہوری کے دوبارہ ڈیتھ وارنٹ جاری کرکے 17جنوری کو پھانسی کی تاریخ مقرر کردی ہے اکرام الحق پر شورکوٹ میں مذہبی رہنما کو قتل کرنے کے جرم میں سزائے موت ہوچکی ہے۔ دریں اثناء اسلام آباد کے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق عدالت عظمیٰ میں کوٹ لکھپت جیل (لاہور) میں سزائے موت پانے والے مجرم زاہد حسین کی اپیل واپس لے لی گئی، گزشتہ روز سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میںجسٹس اقبال حمید الرحمن اور جسٹس عمر عطاء بندیال پر مشتمل تین رکنی بینچ نے کیس کی سماعت کی تو جسٹس آصف کھوسہ نیک ان کے وکیل طارق اسد سے کہا کہ آج زاہد حسین کو پھانسی دی جاچکی ہے اب آپکی اپیل غیر موثر ہوگئی ہے بہتر ہوگا آپ اسے واپس لے لیں وگرنہ عدالت اسے خارج کرنے کا اختیار رکھتی ہے۔اس پر طارق اسد ایڈووکیٹ نے کہا کہ یہ ظلم کی انتہا ہے زاہد حسین نے مقتول کے ورثا کو تیس لاکھ روپے ودیت دے کر صلح کرلی گئی تھی جسے عدالت عالیہ نے ماننے سے انکار کرتے ہوئے پیر کی شام فیصلہ سنایا اور زاہد حسین کی سزائے موت برقرار رکھتے ہوئے فیصلہ دیا، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت آپ کے جذبات کا احترام کرتی ہے مگر اب کیا ہوسکتا ہے مجرم کو پھانسی کی سزا دے چکی ہے بہتر ہوگا آپ اپیل واپس لے لیں بعدازاں طارق اسد نے زاہد حسین کی دائر اپیل واپس لے لی۔ دوسری جانب ملتان میں خانہ فرہنگ ایران پر حملے کے 6 ملزمان کی رہائی کاحکم دے دیا جبکہ پنجاب حکومت کی نظرثانی اپیل خارج کردی گئی، جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں مذکورہ بنچ نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے قرار دیا کہ ممکن ہے ایرانی سفارت خانے پر حملہ دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہو مگر اس دہشت گردی کے مقدمہ میں بھی عدالت کوئی ماورائے آئین اقدام نہیں ہونے دے گی ٹرائل شفاف ہوگا جس میں کسی سے نا انصافی نہیں کی جائے گی، ہائی کورٹ نے ملزموں کی رہائی کا فیصلہ دیا تھا جسے پنجاب حکومت نے چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں نظرثانی اپیل دائر کی تھی۔ فاضل عدالت نے ملتان میں خانہ فرہنگ ایران پر حملے کے ملزمان کی بریت کا ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھتے ہوئے 6 ملزموں کی رہائی کا حکم دے دیا جبکہ پنجاب حکومت کی نظرثانی اپیل خارج کردی گئی۔ ایک اور مقدمہ میں سپریم کورٹ نے سابق صدر پرویز مشرف حملہ کیس میں پھانسی پر لٹکائے جانے والے مجرمان خالد محمود‘ نائیک ارشد محمود اور غلام سرور بھٹی کو جیل میں بیڑیاں پہنانے کیخلاف دائر درخواست غیر موثر قرار دیتے ہوئے خارج کردی۔ جمعرات کے روز جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کیس کی سماعت کی اس دوران مرحوم مجرمان کی جانب سے کرنل (ر) اکرم پیش ہوئے اور انہوں نے بتایا کہ ملزمان کو پھانسی دی جاچکی ہے جس پر عدالت نے درخواست غیر موثر قرار دیتے ہوئے خارج کردی۔مزید برآں ملتان کے نمائندہ خصوصی کے مطابق لاہور میں پھانسی پانے والے زاہد کو گزشتہ روز ملتان میں سپرد خاک کر دیا گیا، پھانسی کے بعد ایمبولینس کے ذریعے زاہد کی لاش ملتان لائی گئی اس کی نماز جنازہ سبزی منڈی کے قریب ادا کی گئی اس موقع پر پولیس نے سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے تھے۔