ریڈ الرٹ جاری کر دیا، تعلیمی اداروں، جیلوں، ائر پورٹس پر حملوں کا خطرہ ہے: صوبائی وزیر داخلہ

لاہور (خبر نگار) صوبائی وزیر داخلہ کرنل (ر) شجاع خانزادہ نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تمام سیاسی جماعتیں ،عسکری ادارے اور عوام متحد ہیں۔ انشاء اللہ پاکستان کی سرزمین کو دہشت گردوںسے پاک کر دیں گے اور اس جنگ میں فتح پاکستان کی ہوگی۔ پنجاب حکومت نے لائوڈسپیکر، اسلحہ،کرایہ داری، اشتعال انگیز تقاریر کے قانون میں ترامیم کی ہیں اور تمام کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سزا اور جرمانہ کی رقم میں بھی اضافہ کیاگیا ہے۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائی خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹوں کی روشنی میں کی جائے گی۔ صوبائی سطح پر وزیراعلیٰ پنجاب کی سربراہی میں ایپکس کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں کورکمانڈر، ڈی جی رینجرز، خفیہ ایجنسیوں کے علاوہ دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سربراہ شامل ہیں۔ انہوں نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ دہشت گردی کی اس جنگ میں حکومت کے شانہ بشانہ کام کریں اور اگر کہیں کوئی مشکوک فرد نظر آئے تو اس کی فوری رپورٹ حکومت کو دیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گذشتہ روز ایوان وزیراعلیٰ میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ صوبائی وزیر داخلہ نے کہا کہ کالعدم تنظیموں کو کام کرنے سے روک دیاگیا ہے۔ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں، ملکی مفاد کے خلاف کام کرنے والی غیرسرکاری تنظیموں، اشتعال انگیز تقاریر اور مدارس کی لسٹیں تیار ہوچکی ہیں اور ان کے خلاف ٹھوس ثبوت پر قانونی کارروائی کی جائے گی۔ فوجی عدالتوں کے قیام پر عام شہری خوش ہیں اور ان کے کام کرنے کا طریق کار طے کیاجا رہا ہے اور انشاء اللہ ملٹری کورٹس جلد کام شروع کر دیںگی۔ ضرب عضب اور پھانسیوں کی سزا پر عمل درآمد سے دہشت گرد تنظیموں کو تہس نہس کر دیاگیا ہے۔ موجودہ حالات میں ریڈالرٹ جاری کر دیا گیا ہے اور پاک فوج اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مربوط حکمت عملی کے تحت کام کر رہے ہیں۔ ائر پورٹوں، تعلیمی اداروں، جیلوں اور اہم تنصیبات پر حملوں کا خطرہ ہے۔ آئی جی پنجاب نے بتایاکہ صوبائی حکومت اور تمام قانون نافذ کرنے والے ادارے ایکشن پلان پر عملدرآمد میں سنجیدہ ہیں اور اس پر پوری طرح عملدرآمد ہو رہا ہے۔ پولیس نے 650افراد کے خلاف مختلف تھانوں میںمقدمات درج کئے ہیں۔اسی طرح جنرل ہولڈاپ کے دوران 8000 سے زائد مختلف نوعیت کا اسلحہ برآمد کیاگیا ہے۔ قابل اعتراض مواد کی اشاعت اور تقسیم پر 328کیس رجسٹرڈ کئے گئے اور 200افراد کو گرفتار کیاگیا۔