قومی پرچم بنانے والے اکثر طلبہ کا سجدہ شکر، اظہار مسرت پر نعرے

قومی پرچم بنانے والے اکثر طلبہ کا سجدہ شکر، اظہار مسرت پر نعرے

لاہور (سپورٹس رپورٹر) یوتھ فیسٹیول 2014 کا پہلا ریکارڈ بنانے والے نوجوان طلباء کی اکثریت نے سجدہ شکر ادا کیا اور مسرت سے ایک دوسرے سے گلے ملتے رہے، بعض کی آنکھوں میں خوشی سے آنسو آگئے اور انہوں نے اپنی اس بڑی کامیابی کا سہرا اپنے والدین کی دعاؤں وزیر اعلیٰ پنجاب اور ان کی ٹیم کو دیا ۔ اس موقع پر میڈیا سے بات چیت میں طالبعلموں کا کہنا تھا عالمی ریکارڈ بنانے پر ہمارے جوتاثرات ہیں ان کو الفاظ میں بیان نہیں کرسکتے۔ ہمیں خوشی ہے ہم پاکستان کا سب سے بڑا انسانی پرچم بنا کر عالمی سطح پر ملک کا نام روشن کرنے میں کامیاب رہے۔ طلباء کا کہنا تھا اللہ نے چاہا تو اس طرح کے مزید ریکارڈز بنا کر دنیا میں پاکستان کا سبز ہلالی پرچم لہراتے رہیں گے۔ ان کا کہنا تھا پنجاب حکومت کی طرف سے مہیا کی جانے والی اس طرح کی غیرنصابی سرگرمیاں ہمیں مستقبل میں آنے والے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کا حوصلہ اور ہمت بندھانے میں مددگار ثابت ہونگے ۔ گیارہ سالہ طالب علم محمد طلحہ نے کہا اللہ کا شکر اداکرتا ہوں کہ میں اپنی والدہ کی دیرینہ خواہش کو پورا کرنے میں کامیاب رہا ،مجھے اور میری فیملی کو قومی پر چم کا ریکارڈ بننے پر فخر ہے۔ دنیا کا سب سے بڑا انسانی پرچم بنانے کے لیے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کی جانب سے دیئے جانے والے دس منٹ کو پورا کرنے کے لیے سورہ رحمان کی تلاوت کی گئی جس دوران بچے سبز اور سفید کارڈ اپنے سروں پر اٹھا کر کھڑے رہے۔ جیسے ہی مقررہ وقت مکمل ہوا بچوں نے خوشی میں اپنے کارڈ فضا میں بلند کرتے ہوئے نعرے لگانے شروع کردیئے۔ دوسرا عالمی ریکارڈ 19فروری کو پنجاب یونیورسٹی میں شیڈول ہے جس میں بیک وقت ڈیڑھ لاکھ افراد قومی ترانہ پڑھ کر سبز ہلالی پرچم لہرائیں گے، اس سے قبل گزشتہ یوتھ فیسٹیول میں 42ہزار سے زائد پاکستانی نوجوانوں نے قومی ترانہ پڑھ کرعالمی ریکارڈ قائم کیا تھا جبکہ بھارت نے گزشتہ برس 1,21,653افراد کی مدد سے عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا۔ 19فروری کو ہی پنجاب یونیورسٹی نیوکیمپس میں سب سے زیادہ افراد قومی پرچم لہرانے کا بھی عالمی ریکارڈ قائم کرینگے۔ یہ ریکارڈ اس وقت سپین کے پاس ہے جس میں 30ہزار افراد نے سپین کا پرچم ایک ساتھ لہرا کر عالمی ریکارڈ قائم کیا تھا جبکہ پاکستان ڈیڑھ لاکھ افراد کی مدد سے یہ ریکارڈ اپنے نام کرنے کیلئے پرعزم ہے۔