شہریوں نے ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو حقیقی جمہوریت ممکن نہیں : چیف جسٹس ‘ عدلیہ عوام کے سامنے جوابدہ ہے‘ غلط رویہ والے ججز کی سکروٹنی ہو گی: جسٹس عمر عطا

شہریوں نے ذمہ داریاں پوری نہ کیں تو حقیقی جمہوریت ممکن نہیں : چیف جسٹس ‘ عدلیہ عوام کے سامنے جوابدہ ہے‘ غلط رویہ والے ججز کی سکروٹنی ہو گی: جسٹس عمر عطا

لاہور (وقائع نگار خصوصی+آئی این پی+آن لائن+این این آئی) چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ جب بار شفاف ہوگی تو انصاف کے حصول کا عمل بھی شفاف ہو گا پھر عدلیہ کا کام آسان ہو گا، بار کا معیار بہتر ہو گا تو عدلیہ کا معیار بھی بہتر ہوگا۔ آئین کی بالا دستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، سستے انصاف کا حصول، اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ اور برداشت کا کلچر فروغ دینا معاشرے کی پانچ اور اہم ترین اقدار ہیں جو انصاف کے حصول کے لئے ہونی چاہئے۔ ان آئینی اقدار کے حصول اور ان کے تحفظ تک حقیقی جمہوریت کا خواب پورا نہیں ہوسکے گا اور ہم رسمی جمہوریت تک رہیں گے جس کا ثبوت آج کے ملکی حالات ہیں، جس طرح وکلا کے تعاون کے بغیر عدلیہ انصاف نہیں کرسکتی اسی طرح ریاست کے دیگر ستونوں کا تعاون انصاف کے حصول کے لئے ضروری ہے۔ وہ پنجاب با ر کونسل میں جعلی وکلا کے سدِ باب کے لئے نادرا کے تعاون سے وکلا کے لئے نئے سمارٹ کارڈ کے اجرا کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ تقریب سے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس عمر عطا بندیال، وائس چئیر مین پنجاب بار کونسل احمر حسین چیمہ، چئیرمین ایگزیکٹو کمیٹی طاہر نصراللہ وڑائچ، اور چئیرمین نادرا امتیاز تاجور نے بھی وکلا سے خطاب کیا۔ چیف جسٹس نے کہا کہ پنجاب بار کونسل نے سمارٹ کارڈ کا اجرا کر کے وکلا برادری کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا، دنیا گلوبل ویلج بن چکی ہے اس لئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر جدید مسائل سے مقابلہ کرنے کے لئے جدید ٹیکنالوجی کا حصول ملکی ترقی کے لئے ناگزیر ہو چکا ہے اس کارڈ کی سہولت سے وکلا برادری میں کالی بھیڑوں کا مکمل صفایا ہو گا۔ وکلا پر انفرادی اور معاشرے کے اہم فرد ہونے کی حیثیت سے اہم آئینی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں یہ ان کے وکالت کے معزز پیشے کا تقاضا بھی ہے۔ جمہوریت میں جہاں ہر شہری کے حقوق ہیں اسی طرح چند ایک آئینی ذمہ داریاں بھی ہیں اگر وہ ادا نہ کی جائیں تو حقیقی جمہوریت کا حصول ممکن نہیں ہے ہر شہری کا فرض ہے کہ وہ  آئینی قدروں کے حصول اور ان کے تحفظ کے لئے کوشاں رہیں۔ ہر شعبہ زندگی اور اداروں میں اقلیتوں کی شمولیت بہت ضروری ہے۔ اقلیتی برادری کے اہل وکلاء کو عدلیہ میں تعینات کیا جائے گا۔ جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا کہ جمہوری اقدار کو اپنائے بغیر حقیقی جمہوریت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ حقیقی جمہوریت کے لئے آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، عدلیہ کی آزادی، اقلیتوں کو ان کے حقوق دینا اور ان کے مذہبی مقامات کا تحفظ ضروری ہے، وکلا میں موجود کالی بھیڑوں کے اخراج سے انصاف کی فراہمی اور آئین کی حکمرانی میں مدد ملے گی۔ قانون کی حاکمیت ہر شعبے پر ہونی چاہئے اگر ہم اقلیتوں کا تحفظ نہیں کریں گے تو دنیا میں ہمارا بھی تحفظ نہیں ہو گا۔ اسلام اور آئین ہمیں اس بات کا پابند کرتا ہے کہ ہم اقلیتوں کو نہ صرف ان کے حقوق دیں بلکہ ان کے مذہبی مقامات کا بھی تحفظ کیا جائے۔ جمہوری قدروں میں سب سے پہلی جمہوری قدر یہ ہے کہ آئین کی بالادستی قائم ہو، جمہوریت کا دفاع کیا جائے اور جمہوریت کے دفاع اور آئین کی بالادستی میں وکلا کا کردار اور ان کی قربانیاں سب کے سامنے ہیں جبکہ دوسری جمہوری قدر یہ ہے کہ قانون کی حاکمیت ہو یہ کسی ایک شعبہ میں نہیں بلکہ ہر شعبے میں ہونی چاہئے اور لوگوں کو مضبوط کیا جائے اور ملک میں قانون کی حکمرانی کے لئے سب سے پہلے وکلا اور بار کو اس پر عمل کرنا چاہئے۔ جمہوری اقدار میں عدلیہ کی آزادی بھی انتہائی ضروری ہے۔ وکلا کو چاہئے کہ وہ ججز کا احترام کریں۔ میں سمجھتا ہوں اقلیتوں کو برابر کی نمائندگی دی جانی چاہئے، اگر کوئی اقلیتی وکیل میرٹ کے مطابق ہو گا تو ہم اسے اعلیٰ عدلیہ میں بھی نمائندگی دیں گے۔ لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس مسٹر جسٹس عطر عطا بندیال نے کہا کہ بار اور بنچ میں تکلیف دہ واقعات ختم ہو چکے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہے کہ پنجاب کے 38اضلاع میں سے 35اضلاع میں زیر التوا مقدمات نمٹانے کا ٹارگٹ حاصل کیا جا چکا ہے۔ ہم عدلیہ میں بھی بہتری کی کوشش کر رہے ہیں اس حوالے سے آپ عدلیہ کو ذمہ دار بنانے کے لئے آگے آئیں غلط رویہ والے ججوں کی سکروٹنی کی جائے گی کیونکہ انصاف کے لئے ججوں کا رویہ نرم ہونا ضروری ہے۔ ایک زمانہ تھا کہ برے کاموںکی شکایات آتی تھیں لیکن کافی عرصہ سے یہ شکایت نہیں اب صرف رویہ کی شکایت آتی ہے اس حوالے سے سخت جانچ پڑتال کر رہے ہیں اچھے فیصلوں کے لئے اچھی بار کا ہونا ضروری ہے دہلی ہائی کورٹ بعد میں بنی تھی مگر اپنے اچھے فیصلوں کی وجہ سے آج دنیا میں اپنا الگ مقام رکھتی ہے۔ بہتر عدالتی سہولتیں فراہم کرنے کے لئے لاہور میں ترقیاتی منصوبے تکمیل کے مراحل میں ہیں اور عدلیہ وکلا کو بھی بہتر سہولتیں فراہم کرے گی۔ ہم سب اور تمام ادارے عوام کو جواب دہ ہیں۔ چئرمین نادرا امتیاز تاجور نے کہا کہ وکلا کے لئے سمارٹ کارڈ کا اجرا قومی خدمت سمجھ کے کیا گیا ہے۔ چئیرمین ایگزیکٹو کمیٹی طاہر نصراللہ وڑائچ نے کہا کہ سمارٹ کارڈ کا اجرا نام نہاد وکلا کو بے نقاب کرنے کے لئے کیا گیا ہے تاکہ عوام کو صحیح وکیل انصاف لے کر دے سکے۔ یہ اقدام وکلا کی سہولت کے لئے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ہمارا مقصد وکلاء کو ڈیجیٹل سکیورٹی کارڈ فراہم کرنا ہے ایسے کارڈ بنانے کا مقصد جعلی وکلاء کی حوصلہ شکنی کرنا ہے۔ نیٹ نیوز کے مطابق چیف جسٹس  تصدق حسین جیلانی نے کہا جمہوریت  میں ہر شہری کے حقوق  ہیں تو اس پر آئینی ذمے داریاں بھی ہیں، ذمے داریاں پوری کئے بغیر  حقیقی جمہوریت کا حصول ممکن نہیں۔  عدالت کے تعاون کے علاوہ  ریاست کے دیگر ستونوں کا تعاون انصاف کے لئے ضروری ہے۔ عوام کو انصاف کی بروقت فراہمی سے عدلیہ کی خودمختاری میں اضافہ ہو گا۔ آن لائن کے مطابق چیف جسٹس تصدق حسین جیلانی نے کہا ہے کہ اگر اداروں کو مضبوط اور جمہوری قدروں کا تحفظ نہ کیا گیا تو حقیقی جمہوریت کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکے گا۔ انتخابات کے باوجود عوام کو رسمی جمہوریت ہی نصیب ہوئی ہے۔ حقیقی جمہوریت کی منزل تک پہنچنے کے لئے آئین کی بالادستی، عدلیہ کی آزادی،اقلیتوں کے حقوق پر مبنی جمہوری قدروں پرعمل کرنا ہو گا۔ جمہوریت اور عدلیہ کی آزادی کا دفاع کئے بغیر انصاف کا بول بالا نہیں ہو سکے گا۔ انصاف کی بروقت فراہمی سے عدلیہ کی خودمختاری میں اضافہ ہوگا۔ لاہورہائیکورٹ کے چیف جسٹس عمرعطاء بندیال نے کہا کہ ججوں کو اپنا رویہ درست رکھنا ہو گا۔ عدلیہ نے بار کے تعاون سے مختلف اضلاع میں 2008ء  سے قبل کے تمام پرانے مقدمات نمٹا دئیے ہیں، لاہور میں مقدمات نمٹانے کے لئے عدالتوں کو دو سیشن ججزکے درمیان تقسیم کردیا ہے۔ این این آئی کے مطابق اس موقع پر  چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ جسٹس عمر عطا بندیال نے کہا کہ آئین کے تحت عدلیہ ملک کے عوام کو جوابدہ ہے ہمیں فرض کو پورا کرنے کیلئے بہترین انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا ہوگا۔ مقدمات کے جلد نمٹانے میں بار کا کردار بہت اہم ہے کیونکہ وکلاء کی معاونت کے بغیر ججز بہترین فیصلے صادر نہیں کر سکتے۔ وکلاء جتنی بہتر معاونت کریں گے ججز اتنے ہی بہتر فیصلے صادر کریں گے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ جس طرح دیگر قومی اداروں کی مضبوطی پر یقین رکھتے ہیں اس طرح وہ بار کی اہمیت کو مد نظر رکھتے ہوئے اسکی بھی مزید مضبوطی کے کوشاں ہیں۔ ضلعی عدلیہ نے نیشنل جوڈیشل پالیسی میکنگ کمیٹی کی جانب سے پرانے مقدمات کو نمٹانے کے ٹارگٹ کو پورا کر لیا ہے۔ یہ بات خوش آئند ہے کہ پنجاب کے 35 اضلاع میں تمام پرانے مقدمات نمٹائے جا چکے ہیں لیکن صرف لاہور اس دوڑ میں کچھ پیچھے رہ گیا ہے۔ صرف انتظامی معاملات کو بہتر بنانے سے لاہور میں 50 فیصد مقدمات نمٹانے جا سکتے ہیں اور اسی مقصد کیلئے لاہور کی عدلیہ کو دو سیشن کورٹس میں تقسیم کیا گیا ہے۔ یہ خالصتاََ مقدمات کو نمٹانے کیلئے انتظامی معاملہ ہے، اس کا مطلب لاہور کی بار ایسو سی ایشن کو تقسیم کرنا ہر گز نہیں۔ فاضل چیف جسٹس نے بار ایسو سی ایشنوں کی جانب سے ہڑتال کا کلچر ختم کرنے کے اقدام کو بھی سراہا۔