سرکاری افسروں‘ بااثر افراد کی آشیرباد‘ شاہراہوںپر غیرقانونی پارکنگ سٹینڈز قائم‘ ٹریفک مسائل گھمبیر ہو گئے

لاہور (سید شعیب الدین سے) صوبائی دارالحکومت کی سڑکوں پر سرکاری اہلکاروں کی ملی بھگت اور طاقتور و بااثر افراد اور تاجروں کی آشیرباد سے قائم پارکنگ سٹینڈوں نے شہر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم کردیا۔ وزیراعلیٰ پنجاب کی ذاتی دلچسپی سے قائم ہونے والی پارکنگ کمیٹی بھی ان غیر قانونی پارکنگ سٹینڈوں سے عوام کو نجات نہیں دلاسکی۔ جبکہ کمیٹی کے پارکنگ سٹینڈوں پر عوام سے دوگنا پارکنگ فیس وصول کی جارہی ہے۔ لاہور میں پارکنگ فیس کا آخری نوٹیفکیشن سابق ڈی سی او احد خان چیمہ نے جاری کیا تھا۔ جس میں کار پارکنگ فیس 10 روپے، موٹر سائیکل پارکنگ فیس 5 روپے مقرر کی گئی تھی۔ مگر گزشتہ دو سال سے لاہور میں کار پارکنگ فیس دھڑے سے 20 روپے اور موٹر سائیکل پارکنگ فیس 10 روپے وصول کی جارہی ہے۔ حکومت نے لاہور کے 273 پارکنگ سٹینڈز پارکنگ کمیٹی کے حوالے کردیئے ہیں۔ ان میں ایوان عدل، لوئر کورٹ، سیشن کورٹ، کینٹ کچہری، ماڈل ٹائون کچہری سمیت 8 ایسے پارکنگ سٹینڈز ہیں جن کی فیس ’’غیر سرکاری  تنظیمیں‘‘ وصول کررہی ہیں۔ ان پارکنگ سٹینڈوں پر کوئی قاعدہ قانون لاگو نہیں ہوتا۔ ان پارکنگ سٹینڈوں پر 3 اور چار قطاروں میں موٹر سائیکلیں اور پھر گاڑیاں کھڑی کرکے سڑک کا دو تہائی حصہ قبضہ میں لے لیا جاتا ہے۔ تاجر مافیا دوسرا بڑا قبضہ گروپ ہے جس نے اپنی اپنی مارکیٹوں میں سرکاری زمین پر پارکنگ سٹینڈ قائم کررکھے ہیں۔ ہال روڈ کے پارکنگ سٹینڈ اس کی بڑی مثال ہیں۔ اندر گلیوں میں بھی تاجروں کے ’’نمائندے‘‘ پارکنگ فیس وصول کرتے ہیں۔ حفیظ سنٹر، صدیق ٹریڈ سنٹر اور دیگر کئی مارکیٹوں، پلازوں میں تاجر خود پارکنگ فیس وصول کررہے ہیں۔ اتفاق ہسپتال کے باہر غیر قانونی کار پارکنگ سٹینڈ کا قبضہ ضلعی حکومت نے گزشتہ سال لے لیا تھا۔ مگر بعد ازاں ’’اوپر‘‘ کی مداخلت پر یہ پارکنگ سٹینڈپھر پرائیویٹ افراد کے حوالے کردیا گیا۔ لاہور میں ٹائون پلانر مافیا اور بلڈنگ انسپکٹر مافیا کی ملی بھگت سے ایسے پلازے تعمیر ہورہے ہیں جن میں پارکنگ کیلئے جگہ نہیں چھوڑی جاتی۔ دو اور چار کنال کی کوٹھیوں میں سکول، کالج، دفاتر قائم کرلئے جاتے ہیں اور پارکنگ ان دفاتر اور سکول کالجوں کے باہر گرین بیلٹ اور سڑکوں پر کی جاتی ہے۔ شارع ایوان صنعت و تجارت، شارع مجید نظامی پر ایسی گاڑیوں کی لمبی قطاریں سڑک کنارے دکھائی دیتی ہیں۔ لاہور میں پارکنگ کمیٹی کو لاہور کے پارکنگ سٹینڈ سونپے جاچکے ہیں۔ کمیٹی نے ان پارکنگ سٹینڈوں پر ’’پرانے ٹھیکیداروں‘‘ کی طرح ’’عملہ‘‘ تعینات کردیا ہے۔ جو 20 روپے کار پارکنگ اور 10 روپے موٹر سائیکل پارکنگ فیس وصول کررہا ہے۔ اتوار بازار بھی اس کمیٹی کے حوالے ہوچکے ہیں۔ کمیٹی کا عملہ کسی ’’حدود و قیود‘‘ کا پابند نہیں ہے۔ ٹھیکیدار شادمان اتوار بازار آنے والے افراد سے کار پارکنگ فیس وصول کرتا تھا مگر ’’نالے سے ادھر‘‘ شادمان کے گھروں کے آگے گاڑیاں پارک کرنے والے مستثنیٰ تھے مگر اب ان سے بھی فیس لی جارہی ہے۔ پارکنگ کمیٹی نے تاحال کسی پارکنگ سٹینڈ پر کوئی ’’بورڈ‘‘ آویزاں نہیں کیا جس پر لکھا ہو کہ کتنی فیس لی جائے گی۔ پارکنگ سٹینڈ کس جگہ سے کس جگہ تک ہے اس کا بھی کوئی بورڈ آویزاں نہیں ہوا ہے۔ پارکنگ فیس وصول کرنے والے عملے کو کمپنی یونیفارم پہنانے کی پابند ہے۔ اس پر بھی تاحال عملدرآمد نہیں ہورہا ہے۔ پارکنگ کمیٹی ٹھیکیدار کی طرح سڑکوں پر گاڑیاں کھڑی کروا کے ’’فیس‘‘ وصول کررہی ہے۔ سڑکوں پر آج بھی ڈبل پارکنگ ہورہی ہے۔ فٹ پاتھوں پر موٹر سائیکلیں کھڑی کروا کے لوگوں کو حادثوں کا شکار ہونے کیلئے سڑکوں پر پیدل چلنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔ پارکنگ کمیٹی نے پارکنگ سٹینڈوں کا نظام ٹھیکے پر دینا تھا۔ ٹھیکے سے پہلے سب سے زیادہ بولی دوبئی کی ایک کمپنی دے چکی ہے مگر تاحال مزید پیشرفت نہیں ہوئی۔ لاہور میں غیر قانونی پارکنگ سٹینڈ آج بھی معروف اور غیر معروف سڑکوں پر بدستور موجود ہیں۔ ان پارکنگ سٹینڈوں کو حدود و قیود کا پابند کئے بغیر لاہور میں ٹریفک کانظام درست نہیںکیا جاسکتا۔