حکومت کیلاش اور اہل تشیع کو دھمکیاں دینے والوں کو بے نقاب کرے: لیاقت بلوچ

لاہور (خصوصی رپورٹر) سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ نے کہا ہے کہ وزیراعظم امن مذاکرات کی نگرانی کر رہے ہیں وہ فوری طور پر حکومتی اور طالبان کمیٹی کا مشترکہ اجلاس بلائیں اور مذاکراتی عمل کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جائے، ایسے اجلاس میں چیف آف آرمی سٹاف لازماً شریک کیے جائیں، پاکستا ن اور اسلام دشمن قوتیں مذاکرات کی ناکامی کے لیے سرگرعمل ہو گئی ہیں، پہلے ڈرون اٹیک کے ذریعے مذاکراتی عمل سبوتاژ کیا جاتا رہا اب دہشت گردی اور شریعت پر واویلا کر کے پاکستان کے عوام کو امن سے محروم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے، فریقین اس مرحلہ پر تحمل، بردباری اور برداشت کا مظاہرہ کریں، مذاکرات کا آپشن جب اختیار کیا گیا ہے تو اس کے دشمن کی سازشوں کو ناکام بنایا جائے۔ اسلام میں کوئی کسی پر جبر نہیں کر سکتا۔ اسلام امن، سلامتی، محبت اور برداشت کی تعلیم دیتا ہے۔ مسلمان دعوت و تبلیغ اور خوش خلقی اور اچھے عمل کے ذریعے ہی غیر مسلموں کو اسلام کی برکات سے روشناس کر سکتا ہے۔ چترال میں اسماعیلیوں اور کیلاش قبائل کو دھمکیاں کون اور کیوں دے رہا ہے، حکومت اسے منظر عام پر لائے۔