جانوروں کی کمی‘ ناقص اشیاء خورد و نوش‘ جھیل کے کنارے خستہ‘ سیاح سفاری پارک سے روٹھ گئے

  لاہور(رپورٹ: چودھری اشرف: تصاویر اعجاز لاہوری) 250 ایکٹر پر محیط سفاری زو پارک لاہور میں جانور کی کمی کے باعث سفاری کا اصل روپ دھارنے میں ناکام ہے، شیروں کے علاوہ کوئی دوسری سفاری نہیں ہے جبکہ پارک میں موجود کینٹین پر غیر معیاری چیزیں مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہیں۔ سیر کے لیے آنے والے افراد کا کہنا ہے کہ پارک کی جتنی بڑی جگہ ہے اگر اس میں زرافہ، زیبراز، گینیڈا اور دریائی گھوڑے لائے جائیں تو یہی سفاری زو پارک کی آمدنی میں کئی گناہ زیادہ اضافہ ہو سکتا ہے۔ نوائے وقت سروے کے مطابق پارک کے داخلی راستے پر موجود فوارہ اور آبشار لمبے عرصے سے بند پڑے ہیں اسی طرح پارک میں واقع جھیل جس سے حکومتی خزانے میں سالانہ 10 لاکھ روپے سے زائد کا ریونیو اکٹھا ہوتا ہے کے کنارے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہیں جو جھیل کی سیر کے لیے آنے والے افراد پر منفی تاثر پیدا کرتے ہیں۔  سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی کہ پارک میں موجود کینٹین کے مالک نے ریٹ لسٹ تو آویزاں کر رکھی ہے لیکن ہر چیز ریٹ لسٹ سے مہنگے داموں فروخت کی جا رہی ہے۔ پارک میں سیر کے لیے آنے والی فیملی کے سربراہ کامران کا کہنا تھا کہ پارک صفائی کے لحاظ سے تو مناسب ہے اگر یہاں مزید نئے جانوروں کی سفاری بھی بنا دی جائے تو سیر کے لیے آنے والے افراد کی تعداد میں اضافہ ہو جائے گا ان کا کہنا تھا کہ بچوں کے لیے جھولے تو ہیں لیکن وہ آج کے معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ خاتون ماہ نور کا کہنا تھا کہ پارک میں اگر معیاری قسم کی برگر، بریانی اور دہی بھلے کی دکانیں بنا دی جائیں تو لوگ اپنے گھروں سے کھانے پینے کی اشیا لانے کی بجائے یہاں کی اشیا کو ترجیح دینگے۔ عمر نامی نوجوان کا کہنا تھا کہ پارک میں شیروں کی سفاری اور ایوری انتہائی شاندار ہے تاہم یہاں بیھٹے کے لیے کوئی بنچ نہیں ہیں جہاں پر سیر کے لیے آنے والے افراد بیٹھ سکیں۔ نوجوان عثمان کا کہنا تھا کہ سفاری پارک کے داخلی راستے پر فوارہ اور آبشار کے نہ چلنے کی بنا پر سفاری کا حسن ماند پڑ جاتا ہے اس پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ سفاری میں صرف ایک ٹائیگر ہے جیسے جوڑے میں تبدیل کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ سیر کے لیے آنے والی خاتون سارہ کا کہنا تھا کہ انہیں یہاں آ کر انتہائی سکون ملتا ہے کیونکہ سفاری زو پارک میں صفائی کے اچھا نظام ہونے کے ساتھ ساتھ پرندوں کے ساتھ وقت گزارا اچھا لگتا ہے۔ سفاری زو پارک لاہور کے ڈپٹی ڈائریکٹر یوسف پال سے رابطہ کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ جھیل اور داخلی راستے پر واقع فوارہ کی مرمت کے لیے محکمہ کو سمری بھجوا دی گئی ہے امید ہے اس پر جلد کام شروع ہو جائے گا۔ جب سے یہاں تعینات ہوا ہوں میری کوشش رہی ہے کہ اس کی آمدنی میں اضافہ ہو۔ پہلے یہاں سکولز و کالجز کے طالب علم یہاں نہیں آتے تھے صرف لاہور چڑیا گھر کی حد تک محدود تھے لیکن اب یہاں بڑی تعداد میں سکولز کی طلبہ طالبات آنا شروع ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سفاری کی چار دیواری بنانے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ چاروں اطراف لگی فینس خستہ حال ہوتی جا رہی ہے۔ پارک میں کام کرنے والے بیلدار شفیق، ادریس اور محمد آصف کا کہنا تھا کہ پارک کی ترقی کے لیے انہوں نے بڑی محنت کی ہے آج لوگوں کی بڑی تعداد کو یہاں آتے دیکھ کر خوشی محسوس ہوتی ہے۔