فیصلہ کرنے کی صلاحیت سے محروم جج اور ایک چپڑاسی میں کوئی فرق نہیں: جسٹس ناصر سعید

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس ناصر سعید شیخ نے کہا ہے کہ عدل کرنا اللہ تعالیٰ کا وصف ہے اور اللہ تعالیٰ کی خاص عنایت ہے کہ ججوں کو انصاف کرنے کےلئے چنا گیا ہے۔ اس لئے مسند ِ انصاف پر فائز لوگوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ کمال سمجھ بوجھ اور دیانت داری سے فیصلے کریں۔ فاضل جسٹس پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں خواتین سول ججوں کے تربیتی کورس کی اختتامی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اِس موقع پر لاہور ہائی کورٹ کی جج جسٹس عائشہ اے ملک، پنجاب جوڈیشل اکیڈمی کے کنسلٹنٹ جسٹس (ر) خلیل الرحمن خان، ایڈووکیٹ جنرل اشتر اوصاف اور لاہور بار ایسوسی ایشن کے صدر ذوالفقار علی بھی موجود تھے۔ انہوں نے کہا کہ جج خوش قسمت ہیں کہ مقدمہ کے دونوں فریق ان پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس لئے انہیں ذہن کا درست استعمال کر کے سچ تلاش کر کے مقدمات نمٹانے چاہئیں اگر کسی جج میں فیصلہ کرنے کی صلاحیت نہیں ہوتی تو اس جج اور ایک چپڑاسی میں کوئی فرق نہیں رہتا۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ جوڈیشل اکیڈمی میں زیرِ تربیت ججوں کو پیشہ وارانہ تربیت کے ساتھ ساتھ مذہبی تعلیم بھی دی جاتی ہے۔ اِس کے ساتھ علمی قابلیت کے ہنر سکھانے پر بھی مزید توجہ دی جائے۔ اِس موقع پر اکیڈمی کے ڈائریکٹر جنرل جسٹس (ر) تنویر احمد خان نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات قابل تعریف ہے کہ زیر تربیت ججوں نے بڑی جانفشانی کے ساتھ اس کورس میں دلچسپی ظاہر کی ہے۔ ماتحت عدلیہ عدالتی نظام میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ مقدمات کے فیصلے کے حوالے سے قرآن مجید سے رہنمائی نہایت ضروری ہے کیونکہ قرآن مجید میں موجود رہنما اصولوں کو اپنا کر ہم بہتر فیصلہ دے سکتے ہیں۔ تقریب سے زیرِ تربیت سول ججوں کی نمائندہ ثمینہ حیات نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ تربیتی کورس مکمل کرنے والی خواتین سول ججوں میں ثمینہ حیات، شمائلہ یعقوب سدھو، عابدہ رفیق، منزہ شہزادی، شازیہ محبوب، صدف لیاقت، نبظہ، نادیہ مشتاق، ارم شریف جنجوعہ، ارم مشتاق، افشاں سدرا، عاشی عظمت، بشریٰ فرید، یاسمین الیاس، نزہت جبیں، مغیرا منور، رابعہ تعریف، صائمہ طفیل، عائشہ عالمگیر اور افشاں یونس شامل ہیں۔ آخر میں ججز میں اسناد تقسیم کی گئیں۔