لاہورمیں کئی ماہ سے تنخواہ نہ ملنے پر دلبرداشہ مقامی اخبار کی ملازمہ نے ہاسٹل کی چھت سے کود کر خود کشی کرلی۔

لاہورمیں کئی ماہ سے تنخواہ نہ ملنے پر دلبرداشہ مقامی اخبار کی ملازمہ نے ہاسٹل کی چھت سے کود کر خود کشی کرلی۔

نارووال سے تعلق رکھنے والی سیماب نے ملازمت کی تلاش میں نکلتے وقت اپنی اور اہل خانہ کی معاشی حالت سنوارنے کے سپنے تو دیکھے تھے لیکن یہ تو شاید اس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اپنی تمام تر جدوجہد کے باوجود وہ نہ صرف اپنے مقصد میں ناکام رہے گی بلکہ اپنی غیر فطری موت کے ذریعے اپنے اہلخانہ کو ایسے دکھ سے دوچار کرجائے گی جس کا مداوا شاید کبھی نہ ہوسکے۔سیشن کورٹ لاہور کے قریب واقع ہاسٹل میں مقم سیماب کو دو ماہ قبل مقامی اخبار میں ملازمت ملی تو اس نے نہ صرف سکھ کا سانس لیا بلکہ اپنے خوابوں کو بھی مزید وسعت دیدی لیکن اس کے تمام سپنے اس وقت چکنا چور ہوتے گئے جب اسے تنخواہ کی ادائیگی کے بجائے محض وعدوں پر ٹرخایا جانے لگا۔سیماب نے دو ماہ تو صبر کا دامن تھامے رکھا لیکن گھریلو مسائل اور مالی پریشانیوں نے اس کے حوصلے پست کر دیئے اور یوں اس نے ہاسٹل کی چھت سے کود کر موت گلے لگالی۔ سیماب کی کزن نزہت کے مطابق وہ چار بہن بھائیوں میں سب سے بڑی تھی جبکہ اس کا باپ کینسر کا مریض ہے۔پولیس نے تصدیق کی ہے کہ سیماب نے تنخواہ نہ ملنے پر دلبرداشہ ہوکر ہی خود کشی کی ہے۔ متوفیہ کی لاش پوسٹ مارٹم کے لئے ہسپتال منتقل کردی گئی ہے، حکام کے مطابق اخبار کےمالک کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔