کئی افغان ہندو داڑھیاں رکھ کر طالبان بنے ہوئے ہیں: جاوید ابراہیم پراچہ

کئی افغان ہندو داڑھیاں رکھ کر طالبان بنے ہوئے ہیں: جاوید ابراہیم پراچہ

لاہور (فرزانہ چودھری سے) کئی افغان ہندو داڑھیاں رکھ کر طالبان بنے ہوئے ہیں۔ خالد خواجہ اور کرنل امام ملا عمر سے خفیہ ملاقات کیلئے میرانشاہ گئے تھے۔ یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کی رہائی کیلئے تاوان کی بات طالبان سے چل رہی ہے۔ شہباز تاثیر کی رہائی کیلئے 2 ارب روپے اور دس کروڑ ایڈوانس کی ڈیمانڈ کی گئی ہے۔ شام میں القاعدہ کو امریکہ‘ سعودی عرب اور کویت سپورٹ کر رہے ہیں۔ یہ باتیں چیئرمین و چیف ایگزیکٹو سُنی سپریم کونسل و تنظیم اہل سنت و الجماعت اور طالبان مذاکرات کے اہم کردار جاوید ابراہیم پراچہ نے ”نوائے وقت“ سنڈے میگزین کو انٹرویو دیتے ہوئے کہیں۔ انہوں نے کہا میڈیا نے مجھے القاعدہ کا لیڈر بنا دیا ہے۔ وزیراعظم میاں نوازشریف کا امریکہ جانے سے پہلے یہ بیان دینا ضروری تھا کہ وہ جاوید ابراہیم پراچہ کو نہیں جانتے۔ انہوں نے کہا میں نے سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے مغوی بیٹے سے ان کی ویڈیو لنک پر بات کروا دی ہے۔ آجکل اس کی رہائی کی بات چل رہی ہے۔ میرے پاس سلمان تاثیر کی بیوی اور بیٹی آئیں اور انہوں نے کہا ہم شہباز تاثیر کی رہائی کیلئے دس کروڑ روپے دے چکی ہیں مگر اس کی آواز ابھی تک نہیں سنی۔ انہوں نے اپنا دوپٹہ میرے قدموں میں رکھ دیا اور کہا شہباز تاثیر کا پتہ کرو۔ مجھے شہباز تاثیر کی ڈاڑھی رکھی تصویر ملی ہے۔ دینے والوں کا کہنا ہے یہ تصویر شہباز کی ماں کو دیں۔ اگر وہ پہچان لیں تو پیسے لے آئیے گا۔ عید تک میں شہباز تاثیر کی ان کے گھر والوں سے ویڈیو لنک پر بات کروا دوں گا۔ جاوید پراچہ نے بتایا میں‘ صوفی محمد اور فضل اللہ تیرہ مہینے ایک ہی جیل میں رہے۔ امریکہ نے مجھے تین بار گرفتار کرکے تشدد کیا۔ مولانا جلال الدین حقانی‘ مولوی یونس خالص‘ مولانا نصراللہ منصور اور مولانا محمد نبی ہمارے مدرسے سے فارغ التحصیل ہیں۔ تورا بورا سے آئے احمد الزواری سمیت ڈیڑھ ہزار عرب لوگ میرے پاس رہتے تھے۔ امریکہ نے مجھے دس لاکھ ڈالر دینے کی پیشکش کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان‘ طالبان مذاکرات کو ناکام بنانے کی کوشش کرنے والی کئی قوتیں بہت مضوط ہیں۔ جاوید ابراہیم پراچہ کا ”نوائے وقت“ سنڈے میگزین کو دیا گیا خصوصی انٹرویو 20 اکتوبر کو شائع ہوگا۔