پنجاب میں اراضی کے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ میں بڑے پیمانے پر غلطیوں کا انکشاف

لاہور (میاں علی افضل سے) پنجاب میں فرد اجرا اور انتقال اراضی کےلئے تیار کئے جانیوالے کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ میں بڑے پیمانے پر غلطیوں کا انکشاف ہوا ہے۔ نئی بننے والی جمع بندیوں کا ریکارڈ کمپیوٹرائز کرنے کے دوران ہونیوالی غلطیوں سے ہزاروں افراد کروڑوں روپے کی جائیدادوں سے محروم ہو گئے جس پر سینئر ممبر بورڈ آف ریونیو نے فوری نوٹس لیتے ہوئے 36اضلاع میں ریکارڈ کی جمع بندی کے بعد کمپیوٹرائزڈ کرنے کیلئے 144 ریونیو افسران پر مشتمل 36 کمیٹیاں بنانے کے احکامات دیدئیے جن میں نائب تحصیلدار اور کانکو بھی شامل ہیں۔ اسکے ساتھ ساتھ جمع بندی کے بعد کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کیساتھ مینول ریکارڈ بھی تیار رکھنے کی ہدایات جاری کردی گئیں۔ پنجاب کی 70 تحصیلوں میں فرد کے اجرا اور انتقال اراضی کی کمپیوٹرائزڈ ریکارڈ کی تیاری میں 17000 سے زائد مواضعات کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا گیا ساڑھے تین کروڑ مالکان اراضی کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ کیا جاچکا ہے جبکہ 22 تحصیلوں میں ڈیٹا انٹری کا کام بھی مکمل ہوچکا ہے۔ سنئیر ممبر بورڈآف ریونیو ندیم اشرف نے نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ریکارڈ میں کسی قسم کی غلطی برادشت نہیں کی جائیگی، ریکارڈ میں درستگی کےلئے بہت سے اقدامات کر رہے ہیں جن کے بہترین نتائج آئیں گے اور کسی کی حق تلفی نہیں ہو گی۔