نئی بلدیاتی حد بندی‘ سانگلہ ہل کو شیخوپورہ‘ مانانوالہ کو ننکانہ میں شامل کیا جائے: نعیم حسین چٹھہ

لاہور (خصوصی رپورٹر) بلدیاتی انتخابات سے قبل اضلاع کی حد بندی کرتے وقت سانگلہ ہل کو ضلع شیخوپورہ اور مانانوالہ تحصیل کو ضلع ننکانہ میں شامل کر دیا جائے تو عوام الناس کو بہت سہولیات میسر ہو سکیں گی۔ بلدیاتی انتخابات غیر جماعتی بنیادوں پر کروانے میں کوئی حرج نہیں ہے کیونکہ اکثر ممالک میں بلدیاتی الیکشن غیر جماعتی بنیادوں پر ہی ہوتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ممتاز سیاسی رہنما چودھری نعیم حسین چٹھہ نے ایک بیان میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ان دنوں ملک میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کے سلسلے میں اضلاع کے اندر نئی حد بندیوں کا تعین کیا جا رہا ہے انہوں نے کہا کہ بلدیاتی ادارے کے یونین کونسلر کا حلقہ کم از کم 40 سے 50 ہزار آبادی پر مشتمل ہونا چاہئے تاکہ کامیاب امیدوار کا اپنے ووٹرز کے ساتھ قریبی تعلق اور رابطہ ممکن رہے انہوں نے کہا کہ ملک کے اندر بلدیاتی، صوبائی اور قومی اسمبلی کے الگ الگ حلقے بنا دیئے جائیں تو یہ تجربہ یقیناً عوام کیلئے آسانیاں پیدا کرے گا انہوں نے کہا کہ یونین کونسل کے بلدیاتی حلقے جغرافیائی اور مواصلاتی حوالے سے منضبط، مربوط اور قابل عمل ہونے چاہئیں انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات بھی جداگانہ طریق انتخاب پر مبنی ہونے چاہئیں تاکہ اقلیتوں کو بھی اپنے حقیقی نمائندے منتخب کرنے کا موقع مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ضلع شیخوپورہ اپنے جغرافیائی محل و وقوع کے لحاظ سے بہت بڑا ضلع ہے تحصیل سانگلہ ہل کی حدود پنڈی بھٹیاں سے شروع ہوکر شاہ کوٹ تک آتی ہیں وہاں کے لوگوں کی دیرینہ خواہش ہے کہ سانگلہ ہل تحصیل کو ضلع شیخوپورہ کے ساتھ منسلک کر دیا جائے۔ یہ فیصلہ ہر لحاظ سے مناسب اور قابل عمل ہونے کے علاوہ عوامی مشکلات میں کمی کا باعث بھی بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر ضلع ننکانہ کی حدود کو بہتر اور منضبط کرنا ہو تو ضلع ننکانہ ہیڈ کوارٹر سے 5 منٹ کی مسافت پر واقع قصبہ مانانوالہ کی مقامی آبادیوں کو ان کی خواہش پر ضلع ننکانہ میں شامل کر دیا جائے تاکہ ان کی مشکلات کم ہوں لہذا آئندہ بلدیاتی انتخابات سے قبل اس تجویز کے مطابق ضلع ننکانہ اور ضلع شیخوپورہ کی نئی حد بندی کر دی جائے تو عوام کو انتظامی، سیاسی، مواصلاتی اور عدالتی نظام میں خاطر خواہ آسانیاں اور سہولتیں میسر آ سکیں گی۔