غلط رپورٹنگ سے عدلیہ کا وقار مجروح ہوتا ہے‘ میڈیا خودا حتسابی کیلئے ادارہ بنائے: جسٹس ریٹائر فخرالنسائ

غلط رپورٹنگ سے عدلیہ کا وقار مجروح ہوتا ہے‘ میڈیا خودا حتسابی کیلئے ادارہ بنائے: جسٹس ریٹائر فخرالنسائ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ آف پاکستان کے زیراہتمام منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا ہے کہ درست عدالتی رپورٹنگ کے بغیر عدالتی وقار اور عوام کے بنیادی حقوق کا تحفظ ممکن نہیں۔ عدالتی رپورٹنگ کی اہمیت دائر کردہ مقدمات جتنی ہے۔ اس کا دائرہ کار تو عدالتی فیصلوں سے بھی زیادہ ہے کیونکہ مقدمات دائر ہونے سے پہلے درجنوں معاملات میں عدالتی میڈیا رپورٹس پر ازخود نوٹس لیتی ہیں۔ تربیت لازمی ہے۔ سیمینار کی صدر جسٹس ریٹائرڈ فخرالنساءکھوکھر نے کہا کہ غلط اور غیر محتاط عدالتی رپورٹنگ سے نہ صرف عوام درست اطلاعات کے حق سے محروم رہتے ہیں بلکہ قانون کی بالادستی اور عدالتوں کا وقار بھی متاثر ہوتا ہے جس سے عدالتوں کو شہریوں کی آزادی اور بنیادی حقوق سے متعلق فیصلے کرنے میں دشواری پیش آتی ہے۔ عدالتی رپورٹنگ کے ضابطہ اخلاق کیلئے اگر حکومتی سطح پر کوئی ادارہ بنتا ہے تو اسے حق تحریر کی راہ میں رکاوٹ سمجھا جائے گا۔ اس لئے میڈیا کے اندر ہی خود احتسابی کا ادارہ ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عدالتی رپورٹنگ کے رجحان میں عدالتیں بھی ذمہ دار ہیں جہاں پر کیس میں ریمارکس آتے ہیں جو میڈیا کی بریکنگ نیوز اور ہیڈ لائنز بنتے ہیں ورنہ ہمارے زمانے میں جج نہیں‘ ان کے فیصلے بولتے تھے۔ سابق ایڈووکیٹ جنرل پنجاب اشتر اوصاف علی نے کہا کہ عدالتی رپورٹنگ اتنی ہی اہم ہے جتنی عدالت کے سامنے مقدمات کی صورت میں پیش کی جانے والی مصروفیات ہیں۔ جن خبروں پر نوٹس لیا جاتا ہے‘ ان کا مستند ہونا ازحد ضروری ہے۔ازخود نوٹس معاملے کا کوئی نتیجہ نہ نکلے تو عدالتوں کا وقت ضائع ہوگا۔ عدالتی رپورٹنگ میں معلومات‘ حقائق اور قانونی اصلاحات کے بارے درستگی بہت ضروری ہے۔ عدالتی رپورٹرز کی تربیت بہت ضروری ہے ورنہ صحافت کو مخص پڑھ لینا نصف علم کے مترادف ہے۔ عدالتی رپورٹنگ کے تربیتی پروگراموں سے اگر پہلوتہی کی گئی تو یہ بہت بڑی زیادتی ہوگی۔ اس حساس موضوع پر منعقدہ سیمینار منزل کی طرف پہلا قدم ہے۔ لاہور کالج برائے خواتین واپڈا ٹاﺅن کے شعبہ ابلاغیات کی سربراہ حریمہ طارق نے کہا کہ عدالتی کارروائی کا احترام سب پر لازم ہے۔ اس لئے میڈیا کی درست رپورٹنگ بھی بہت ضروری ہے۔ عدالتی رپورٹنگ کیلئے نمائندے کی عدالتی اصطلاحات اور قانونی دفعات سے آگاہی لازمی ہے۔ میڈیا کی آزادی کے ساتھ صحت مند رجحانات کا ہونا بھی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اسی صورت ممکن ہے جب تعلیم کے ساتھ تربیت کے عمل کو بھی یقینی بنایا جائے۔ روزنامہ نوائے وقت کے عدالتی رپورٹر ایف ایچ شہزاد نے کہا کہ عدالتی رپورٹنگ وکلاءتحریک کے نتیجے میں بحال ہونے والی عدلیہ کے بعد بہت اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ عدالتی رپورٹنگ سے وابستہ توقعات اسی وقت پوری ہو سکتی ہیں جب آئینی و قانونی قدغن اور پابندیوں کے سلسلے میں ضابطے وضع کئے جائیں۔ صحافیوں کو تربیت‘ ریفریشر کورسز کے ساتھ ان کے معاشی مسائل کو بھی حل کیا جائے۔ فاضل عدالتیں بھی اس بات کو یقینی بنائیں کہ صحافیوں کو ریکارڈ تک بروقت رسائی ہو تاکہ بریکنگ نیوز جیسی مقابلے کی فضا میں وہ عدالتی خبروں کو تصدیق کرنے کے بعد ادارے کو دے سکیں۔ سیمینار کے آغاز میں حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ آف پاکستان کے ڈائریکٹر البصار عبدالعلی نے کہا کہ انسٹیٹیوٹ میں مختلف موضوعات پر سیمینار کے انعقاد کا مقصد عملی صحافت سے وابستہ افراد اور نئے آنے والوں کی تربیت کرنا ہے۔ صحافت پیغمبرانہ خصوصیات کا حامل پروفیشن ہے جس کا دائرہ کار بہت وسیع ہوچکا ہے۔ حمید نظامی پریس انسٹیٹیوٹ نے روایتی موضوعات سے ہٹ کر بھی سیمینار کروائے جس میں کارٹون جرنلزم اور کمیونٹی سٹیزن جرنلزم جیسے موضوعات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دیگر شعبوں اور عدالتی رپورٹنگ میں بہت فرق ہے۔ انہوں نے کہاکہ یہ تاثر درست نہیں کہ سابق صدر پرویز مشرف نے میڈیا کو آزادی دی۔ پرویز مشرف کی پالیسی تھی کہ میڈیا جو بولتا ہے‘ اسے بولنے دو مگر وہی کرو جو حکمرانوں کی ذاتی پالیسی ہے۔ موجودہ آزادی میڈیا نے خود حاصل کی ہے۔