عدالتیں شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہیں: سپریم کورٹ

عدالتیں شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہیں: سپریم کورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ عدالتیں شہریوں کے بنیادی حقوق کی محافظ ہیں۔ ٹرائل کورٹ میں ملزم کے خلاف ثبوت فراہم کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے، کسی قانونی جواز اور ثبوت کے بغیر کسی ملزم کو ایک منٹ کے لئے بھی جیل میں رکھنا قانون کی خلاف ورزی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چودھری نے یہ ریمارکس سزائے عمر قید کے خلاف دائر اپیل کی سماعت کے دوران دئیے۔ تین رکنی بنچ نے ملزم زوہیب اطہر کی اپیل منظور کرتے ہوئے اسے بری کرنے کا حکم دے دیا۔ دوران سماعت استغاثہ کی طرف سے عدالت کو مطمئن نہ کرنے پر فاضل عدالت نے قرار دیا کہ پراسیکیوشن کا کام سچ کو سامنے لانا ہے۔ پولیس کا دفاع کرنا نہیں ہے۔ استغاثہ کے مطابق انسداد دہشت گردی عدالت نے پولیس مقابلے کے دوران اپنے ہی ساتھی کو مارنے کے جرم میں زوہیب اطہر کو سزائے عمر قید دی تھی۔ جس کے خلاف پہلے لاہور ہائکیورٹ اور بعدازاں سپریم کورٹ نے ملزم کی اپیل منظور کرتے ہوئے بری کرنے کے احکامات جاری کر دئیے۔