خسرہ: بچوں کی جانیں ضائع ہوئیں‘ ذمہ داروں کے خلاف فوجداری مقدمات درج ہونے چاہئیں : لاہور ہائیکورٹ

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس محمد خالد محمود خان نے خسرے کی وباءسے ہونے والی ہلاکتوں کے ذمہ داران کے تعین کے لئے دائر درخواست پر پنجاب حکومت سے ذمہ داروں کے خلاف فوجداری کارروائی نہ کرنے پر وضاحت طلب کر لی۔ فاضل عدالت نے انکوائری رپورٹ دیکھنے کے بعد ریمارکس دئیے کہ یہاں معصوم بچوں کی قیمتی جانیں ضائع ہوئی ہیں صرف افسروں کو معطل کرنے اور برطرف کرنے سے کچھ نہیں ہوگا آئند ہ سماعت پر بتایا جائے کہ کیا ذمہ دار افسروں کیخلاف فوجداری کیسز بنائے جارہے ہیں یا نہیں۔ فاضل عدالت نے پنجاب حکومت سے 23اکتوبر تک رپورٹ طلب کرتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔ عدالت نے قرار دیا کہ یونیسف کی جانب سے خسرہ ویکسین کی سٹوریج کے لئے بھجوائے گئے 2200 ڈیپ فریزرز ملازمین اپنے گھروں کو لے گئے اور تاحال غفلت برتنے والوں کے خلاف ٹھوس کارروائی نہیں کی گئی ہے۔ سرکاری وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔ فاضل عدالت نے قرار دیا کہ ذمہ داران کو صرف نوکریوں سے برخاست کرنا کافی نہیں ان کے خلاف فوجداری مقدمات قائم ہونے چاہئےں کیوںکہ یہ انسانی جانوں کا معاملہ ہے اور معصوم بچے اس وبائی مرض پر بروقت قابو پانے کے اقدمات نہ کرنے سے ہلاک ہوئے ہیں جو کسی بھی صورت ناقابل تلافی جرم ہے۔ فاضل عدالت نے ذمہ داران کے خلاف فوجداری کارروائی کے بارے میں باضابطہ رپورٹ طلب کرتے ہوئے کیس کی مزید سماعت 23اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔ ہائی کورٹ میں جمع کروائی گئی رپورٹ کے مطابق تین سابق سیکرٹری اور دو ڈائریکٹر جنرل صحت کیخلاف کارروائی کی سفارش کی گئی ہے۔ پنجاب حکومت نے پروفیسر فیصل مسعود کی سربراہی میں تین رکنی انکوائری کمشن تشکیل دیا تھا۔