یوم عاشور پر بڑے شہروں میں موبائل سروس بند کرنے پر اتفاق‘ 8 اضلاع حساس قرار

لاہور (سپیشل رپورٹر+ نیوز ایجنسیاں) حکومت پنجاب نے محرم پر انتظامات کو حتمی شکل دے دی ہے۔ پولیس کے مطابق یکم محرم سے لے کر چہلم تک پنجاب میں تقریباً 45ہزار مجالس اور جلوس نکالے جائیں گے۔ اس بارے میں 1340جلوسوں کو اے کیٹیگری میں رکھ کر حساس ترین قرار دے دیا گیا ہے جس کے لئے ان جلوسوں کے علاقوں میں موٹر سائیکل کی ڈبل سواری سمیت موبائل سروس عاشورہ کے موقع پر بند کر دی جائے گی جبکہ اسی طرح 3290مجالس کو حساس ترین قرار دیا گیا ہے جن کی ویڈیو ریکارڈنگ کی جائے گی۔ اس کے علاوہ ذرائع کے مطابق یوم عاشور پر بڑے شہروں میں موبائل سروس بند کرنے کی تجویز سے بھی اتفاق رائے ہو گیا ہے جبکہ 2374محرم کے جلوس جبکہ 8458مجالس کو حساس قرار دیا گیا ہے۔ جلوسوں کے راستوں پر بجلی کی لوڈشیڈنگ نہ کرنے کے لئے واپڈا حکام کے ساتھ 24گھنٹے رابطہ رکھا جائے گا۔ جنریٹر کے انتظامات بھی کر لئے گئے۔ علاوہ ازیں وزیراعلیٰ پنجاب کے سینئر مشیر سردار ذوالفقار کھوسہ نے کہا ہے کہ محرم الحرام میں لاہور سمیت آٹھ اضلاع حساس ہیں، پنجاب کی تمام ضلعی انتظامیہ کو مکمل اختیار دے دئیے ہیں کہ وہ فوج اور رینجرز کو طلب کرنے کے ساتھ ڈبل سواری پر پابندی عائد کر سکتے ہیں، بارود سونگھنے والے 100سراغ رساں کتے منگوا لئے ہیں، شیڈول 4میں شامل افراد پر گہری نظر رکھی جائے گی اور انکی سرگرمیاں مانیٹر کی جائیں گی، گذشتہ محرم الحرام میں ہونیوالے ناخوشگوار واقعات میں ملوث ملزمان کے خلاف کارروائی کی رپورٹ بھی طلب کر لی ہے، کالعدم جماعتوں کو نام بدل کر کام کرنے کی اجازت نہیں، عوام ایسے لوگوں پر نگاہ رکھیں جو شر پھیلانا چاہتے ہیں۔ وہ گذشتہ روز ایوان وزیراعلیٰ میں محرم الحرام کے حوالے سے صوبائی حکومت کی طرف سے کئے جانیوالے اقدامات بارے پریس کانفرنس کر رہے تھے۔ انہوں نے کہاکہ ایس ایچ اوز کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ یونین کونسل کی سطح تک امن کمیٹیوں کو فعال کیا جائے۔