مسلم لیگ (ن) سے کیسے نمٹا جائے؟

فرخ سعید خواجہ
 قومی سیاست میں جن انجینئرڈ انتخابات کا بہت چرچا رہا ہے سپریم کورٹ نے تو اب اس پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ چنانچہ1990ءکے انتخابات کے حوالے سے اصغر خان کیس کے فیصلے کے بعد آنے والے الیکشن میں موجود آزاد و خودمختار الیکشن کمیشن کی ذمہ داریاں کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم اورالیکشن کمشن آف پاکستان میں اُن کے ساتھی ممبران جسٹس (ر) محمد روشن عیسانی (سندھ)، جسٹس (ر) ریاض کیانی (پنجاب)، جسٹس (ر) فضل الرحمن (بلوچستان) اور جسٹس (ر) شہزاد اکبر خان (خیبر پختونخواہ) غیر جانبدارانہ عام انتخابات کروانے کا برملا اظہار کر رہے ہیں۔ قوم کو بھی اُن سے یہی اُمید یں وابستہ ہےں۔ عام انتخابات کی تیاریاں شروع ہو چکی ہیں۔ نگران حکومتوں کے قیام کا مرحلہ قریب آتا جا رہا ہے۔ تاہم وزیراعظم راجہ پرویز اشرف اپوزیشن لیڈر چودھری نثار علی خان کے درمیان مرکز کی نگران حکومت کے قیام کے لئے صرف رسمی مذاکرات اور اعلان باقی ہے۔
اصغر خان کیس کے فیصلے کے بعد صدر آصف علی زرداری نے دفاعی پوزیشن اختیار کر لی ہے اور وہ منڈی بہا¶الدین سے پیپلزپارٹی کی جس جلسے سے انتخابی مہم شروع کرنے جا رہے تھے اسے اب ”عید ملن پارٹی “ کا نام دے دیا گیا ہے ۔ اس سے ہمارے شبے کو تقویت ملتی ہے کہ صدر زرداری بہت جلد صدر مملکت کا عہدہ چھوڑ کر میدانِ سیاست میں شریک چیئرمین پیپلزپارٹی کی حیثیت سے کود پڑیں گے تاہم پیپلزپارٹی کے ایک کامریڈ الطاف احمد قریشی کا یہ بھی کہنا ہے کہ صدر صاحب کو صدارت چھوڑنے کا خطرہ مول نہیں لینا چاہئے بلکہ چیئرمین بلاول بھٹو کو انتخابی مہم کی کمان سونپ دینی چاہئے۔ یہ محض ہمارے کامریڈ کی رائے نہیں بلکہ پیپلزپارٹی کے اندر ایک بہت بڑا طبقہ اس کا حامی ہے۔ اُن کی دلیل ہے کہ شہید بےنظیر بھٹو کا صاحبزادہ ہونے کے باعث بلاول بھٹو زرداری کو عوام میں ہمدردی کے باعث پذیرائی ملے گی۔ دبے دبے لفظوں میں ایسے لوگ اعتراف کرتے ہیں کہ صدر زرداری کی ذات پر کرپشن کے جو الزامات ہیں وہ انتخابی مہم میں پیپلزپارٹی کے لئے مشکلات کا باعث ہوں گے۔
بلاشبہ صدر زرداری کی ذات ہمیشہ کرپشن کے الزامات کی زد میں رہی ہے مگر اس کے باوجود پیپلزپارٹی میں آج اُن کے علاوہ کوئی لیڈر نہیں جو مخالف تگڑے سیاستدانوں نوازشریف کا عوامی سطح پر مقابلہ کر سکے۔ ہماری رائے میں بلاول بھٹو زرداری جیسا ”ممی ڈیڈی“ لیڈر پیپلزپارٹی کی بھنور میں پھنسی کشتی کو کنارے لگانے میں کامیاب نہیں ہو سکتا۔ صدر زرداری نے ملک کے سب سے بڑے اور اہم صوبے میں میاں منظور وٹو جیسے منجھے سیاستدان کو میدان میں اُتارا ہے۔ مگر محض زبانی جمع خرچ سے کام چل سکتا تو یادش بخیر ! بابر اعوان اُن سے کامیاب لیڈر ثابت ہو چکے ہوتے۔ جناب وٹو نے پیپلزپارٹی پنجاب کے ایگزیکٹو کمیٹی کو سبکدوش کر دیا ہے یوں پارٹی عہدیدار بھی فارغ سمجھے جانے چاہئیں۔ اگلے چند ہفتوں میں پیپلزپارٹی پنجاب کے صدر منظور وٹو اور جنرل سیکرٹری تنویر اشرف کائرہ مشاورت سے نئے عہدیداروں کی آصف علی زرداری سے منظوری لیں گے۔ اُس کے بعد معلوم ہوگا کہ پیپلزپارٹی پنجاب میں کیا کارکردگی دکھاتی ہے۔
جیسا کہ سب جانتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کے علاوہ پاکستان تحریک انصاف بھی پنجاب میں سیاسی قوت کے طور پر ابھری ہے۔ بعض لوگ عمران خان کی شخصیت کو غیر متنازع سمجھتے ہیں جن کا تاثر ہے کہ سابق حکمران جماعتوں کے مقابلے میں ایک چانس عمران خان کو بھی دیا جانا چاہئے۔ سو تحریک انصاف کے امیدوار بھی مسلم لیگ (ن) اور اُن کے اتحادی امیدواروں سمیت پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ امیدواروں کے مقابلے میں اہمیت کے حامل ہونگے۔
محرم الحرام کے مہینے کا آغاز ہونے کو ہے جس کے باعث کم از کم عاشورہ محرم تک سیاسی جماعتوں کی جلسے جلوسوں پر لازمی پا بندی رہے گی۔ لیکن محرم کا مہینہ ختم ہوتے ہی سیاسی سرگرمیاں بھرپور انداز میں شروع ہو جائیں گی۔ پیپلزپارٹی کی جانب سے سید یوسف رضا گیلانی کو اہم لیڈر کی حیثیت سے انتخابی مہم میں اُتارنے کا جو چرچا رہا ہے وہ محض قیاس آرائی ثابت ہو رہا ہے۔ ہمارے معاشرے کی عادت کے مطابق کل صدر زرداری کے سامنے ڈھال بن کر کھڑے ہونے والے یوسف رضا گیلانی اب گئے دنوں کی بات لگتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پارٹی کے شریک چیئرمین نے انہیں ”ڈمپ“ کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا۔
پیپلزپارٹی میں ان دنوں یہ بات زیرِ بحث ہے کہ پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ (ق) کے مشترکہ جلسوں کے انعقاد میں ہم آہنگی پیداکرنے کے لئے دونوں جماعتوں کی قیادت کی طرف سے کیا کیا اقدامات کئے جانے چاہئیں۔ اپنی اپنی سمجھ بوجھ کے مطابق آراءدی جا رہی ہیں۔ سو قابلِ عمل راستہ نکال لیا جائے گا۔ ویسے تو ماضی کی متحارب دو بڑی جماعتوں کے کارکنوں کا ایک دوسرے کے ساتھ مل کر چلنا بہت مشکل ہوتا ہے لیکن ان دونوں جماعتوں کے کارکنوں کو چونکہ مشترکہ مخالف ”مسلم لیگ (ن)“ سے نمٹنا ہے لہٰذا اُن کی آپس کی مخاصمت بہت حد تک دب جائے گی۔
مسلم لیگ (ن) نوازشریف کی قیادت میں آنے والے الیکشن کی بھرپور تیاریوں میں مشغول ہے۔ صوبائی صدر پنجاب میاں شہبازشریف خاصے حقیقت پسند بن چکے ہیں اور جہاں پنجاب حکومت چلانے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں وہاں سیاسی محاذ پر بھی گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے پچھلے چند ماہ میں صوبے کے نوجوانوں کے دل جیتنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے۔ اُن کی ”یوتھ پالیسی“ اور اُس پر فوری عمل نے نوجوانوں میں نہ صرف شہبازشریف بلکہ مسلم لیگ (ن) کے لئے بھی نرم گوشہ پیدا کر دیا ہے۔ یہ بات طے ہے کہ آنے والے الیکشن میں 18 سال سے 24 سال کی عمر کے ووٹر بہت اہم ہونگے۔ نوجوانوں کا جوش و جذبہ اور قابلیت جس جماعت کے حصے میں ز یادہ آئے گی اُس کی کامیابی کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔