جوانو!.... آگے آﺅ

صحافی  |  ریاض الرحمن ساغر

خطائیں مان کر بھی
نتائج جان کر بھی
نہ ہم بدلے نہ سُدھرے
حقائق چھان کر بھی
دیا دل کو دلاسا
کہ ہنگامہ ذرا سا
ہے پل دو پل کی رونق
گھڑی بھر کا تماشا
جو سمجھا رات کودن
دلوں میں روشنی بن
اجالے میں سفر ہو
بھلا کیسے ہے ممکن
خرد نے جو جلائے
دیئے ہم نے بجھائے
وہ جگنو ہوگئے گم
جو بن کر شمع آئے
نہ سیکھا ہم نے جینا
نہ تانا دکھ میں سینہ
کمر باندھی نہ ہم نے
بہایا خوں پسینہ
اگر زندہ ہیں ایسے
تو شرمندہ ہوں کیسے
پہن کر سوٹ، مہنگے
پھریں بے شرم جیسے
یہ رہبر کم نہ ہونگے
مسافر ہم نہ ہونگے
ہمارے آنسوﺅں سے
شرر مدھم نہ ہونگے
جوانو! آگے آﺅ
انہیں جینا سکھاﺅ
تم ان کے پیچھے چل کر
نہ منزل کو گنواﺅ