امریکی غلاموں کا ساتھ دینے والوں نے قومی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی: منور حسن

لاہور (خصوصی نامہ نگار) امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے کہا ہے کہ اگر دینی ووٹ حاصل کرنے کے بعد اسے مشرف یا زرداری کی نذر کر کے ان کے قدم جمانا مقصود ہو تو ایسے اتحاد یا انتخابات کسی دوسری دینی و سیاسی جماعت کے لئے تو سود مند ہو سکتے ہیں، جماعت اسلامی کے لئے قطعاً نہیں، ملک میں سیکولرازم کا راستہ روکنے اور خطے سے امریکی انخلا کے لئے ضروری ہے کہ جس طرح سیکولر اور امریکی مفادات کے محافظ انتخابات میں متحرک ہوتے ہیں دینی قوتیں بھی اختلافات بھلا کر اسی جذبے سے کام کریں تو انقلاب کو کوئی نہیں روک سکے گا۔ جماعة الدعوة، تنظیم اسلامی اور تبلیغی جماعت بہت بڑی قوت ہیں اگر ان کو ووٹ ڈالنے پر قائل کیا جا سکے تو آئندہ انتخابات میں ہی شاندار کامیابی حاصل ہو جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے سوڈان روانگی سے قبل منصورہ میں مرکزی تربیت گاہ سے خطاب اور بعدازاں سوالوں کے جوابات دئیے۔ اس موقع پر حافظ محمد ادریس بھی موجود تھے۔ سید منور حسن نے کہا کہ کراچی اور حیدر آباد سمیت سندھ میں ایم کیو ایم کی دہشت گردی اور انتہا پسندی سے بچنے اور دھونس دھاندلی اور پولنگ سٹیشنوں پر قبضہ کر کے مرضی کے نتائج حاصل کرنے کی راہ روکنے کے لئے بھی ضروری ہے کہ قوم دینی جماعتوں کا ساتھ دے۔ کچھ لوگوں نے قومی اعتماد کو سخت ٹھیس پہنچائی ہے اور دین کے نام پر ووٹ لے کر امریکی غلاموں اور سیکولر قوتوں کا ساتھ دیا ہے۔ بعدازاں جماعت اسلامی کا وفد امیر منور حسن کی قیادت میں سوڈان کے پانچ روزہ دورے پر چلا گیا۔ انہیں اس دورے کی دعوت سوڈان کی اسلامی تحریک نے دی تھی۔ سید منور حسن سوڈان کی تحریک اسلامی کے سالانہ کنونشن میں شرکت اور خطاب کریں گے۔ سید منور حسن نے سوڈان روانگی سے قبل نائب امیر جماعت اسلامی چودھری محمد اسلم سلیمی کو قائم مقام امیر مقرر کیا ہے جنہوں نے منصورہ میں تقریب میں اپنی ذمہ داریوں کا حلف اٹھا لیا۔