گدو بیراج کے قریب ڈاکوئوں کیخلاف 3 ہفتے سے جاری سندھ، پنجاب پولیس کا آپریشن انجام کو نہ پہنچ سکا

لاہور (بی بی سی ڈاٹ کام) رحیم یار خان، گھوٹکی اور کشمور کے سنگم پر گدو بیراج کے قریب ڈاکوؤں کے خلاف تین ہفتے سے جاری سندھ اور پنجاب پولیس کا آپریشن ابھی تک اپنے انجام کو نہیں پہنچ سکا۔ آپریشن کے دوران اسلحہ بردار ہیلی کاپٹر بھی استعمال کیے جا چکے ہیں اس کے باوجود ’چھوٹو جزیرے‘ کے جنگل میں چھپے ڈاکو پسپا نہیں ہوئے۔ پولیس ذرائع کے مطابق اس کی وجہ ڈاکوؤں کے مقابلے میں پولیس کے پاس جدید اور مناسب اسلحے کی کمی ہے۔ یہ جزیرہ 2010 کے سیلاب کے بعد دریائے سندھ میں ابھرا۔ اس کی چوڑائی پانچ سو سے چھ سو میٹر جبکہ لمبائی تین کلو میٹر ہے۔ یہ جزیرہ گھنے جنگل سے ڈھکا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ گذشتہ دو تین برس میں پنجاب اور سندھ کے سرحدی علاقوں میں موجود ڈاکوؤں نے اسے اپنی پناہ گاہ بنا رکھا ہے۔ پولیس کے لیے زمینی طور پر جزیرے تک پہنچنا مشکل تھا۔ وزارت داخلہ سے فضائی مدد کی درخواست کی گئی جس پر چند اسلحہ بردار ہیلی کاپٹرز دیے گئے جنھوں نے جزیرے پر فائرنگ کی جس سے پولیس اہلکار بازیاب کروا لیے گئے۔ تاہم تین اضلاع کی پولیس اب تک ڈاکوؤں کو پسپا کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔