پنجاب میں اے ٹی ایمز کے ذریعے صاف پانی فراہم کرنے کا منصوبہ

لاہور (آئی این پی +رائٹرز) پنجاب میں اے ٹی ایم مشین لوگوں کو پینے کا صاف پانی بھی فراہم کرے گی۔ ایک رپورٹ کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے میں پینے کا صاف پانی فراہم کرنے کے منصوبے کے اجراءکا فیصلہ کیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دو مربع فٹ کی پروٹو ٹائپ اے ٹی ایم کی طرح دکھتی اور کام کرتی ہے لیکن یہ پیسوں کے بجائے پانی بانٹتی ہے۔ یہ مشین شمسی توانائی کے ذریعے چلے گی، صارفین کو سمارٹ کارڈ دیا جائے جس کے سکین کرنے سے اسے روزانہ کی ضرورت کے مطابق پینے کا صاف پانی مہیا ہو سکے گا، یہ منصوبہ پنجاب صاف پانی کمپنی اور تحقیقاتی مرکز انوویشن فار پاورٹی ایسوسی ایشن نے ایپال کے مشترکہ تعاون سے شروع کیا جا رہا ہے۔ یہ اے ٹی ایمز واٹر فلٹریشن یونٹ پر نصب کی جائے گی ایپال کے پروگرام منیجر جواد عباس نے بتایا کہ یہ مشینیں حکومت کو پانی کا ضیاع روکنے اور لوگوں کو صاف پانی کی فراہمی میں مدد دینگی۔ اس سے ایک خاص علاقے میں مہیا کئے گئے پانی کی مقدار کا درست ریکارڈ سامنے آئے گا اور ایک مرکزی سینٹر میں پانی کی مقدار اور کوالٹی کا آن لائن جائزہ لیا جا سکے گا۔ پہلے مرحلے میں یہ منصوبہ بہاولپور، راجن پور اور فیصل آباد کے تین اضلاع میں شروع کیا جارہاہے۔ فائدہ اٹھانے والے ہر خاندان کو 30 لٹر پانی فراہم کیا جائے گا۔ جواد عباسی نے کہا پہلے مرحلے میں 20 پلانٹس پر مشینیں نصب کی جائے گی۔ ان پلانٹس سے ساڑھے 17 ہزار خاندان مستفید ہوں گے۔ بھارت میں ایسی مشینیں پہلے ہی نصب کی جا چکی ہیں۔ پنجاب میں صاف پانی کمپنی کے مطابق پنجاب حکومت 2017 تک ساڑھے 3 کروڑ افراد کو پینے کا صاف پانی مہیا کرناچاہتی ہے اور اس کے لئے اگلے بجٹ میں تقریباً 20 کروڑ ڈالر مختص کئے جانے کا امکان ہے۔ نیشنل ڈرنکنگ واٹر پالیسی کے مطابق ملک کی 35 فیصد آبادی کو صاف پانی کی سہولیات حاصل نہیں اور آلودہ پانی کے سبب پھیلنے والی بیماریوں کے باعث ملکی معیشت کو سالانہ 112 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔
اے ٹی ایمز/پانی